پہلگام واقعہ، مودی کو سیاسی طور پر بہت نقصان ہوا: خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 4th, May 2025 GMT
اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ، خبرنگار خصوصی) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ دوست ملکوں سے رابطے میں ہیں۔ ترجمان وائٹ ہاؤس نے تحمل کا مظاہرہ کرنے کا کہا پاکستان نے پہلگام واقعہ پر تحقیقات کی پیشکش کی۔ پاکستان اگر پیشکش نہ کرتا تو دنیا سے جارحانہ بیانات آ سکتے تھے۔ بھارت کو پتہ ہے اگر کچھ کرے گا تو منہ توڑ جواب ملے گا۔ پاکستان کی تحقیقات کی پیشکش پر 4 سے 5 ممالک کمشن بنا لیں رپورٹ پیش کریں مودی کو سیاسی طور پر بہت نقصان ہوا ہے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ بھارت کی جانب سے حملے کا خطرہ تاحال موجود ہے سندھ طاس معاہدے سے متعلق چند دن میں ورلڈ بنک سے رابطہ کیا جائے گا۔ دیکھنا چاہئے مودی نے پہلگام واقعہ کا ڈرامہ خود تو نہیں رچایا بھارت پہلگام واقعہ سے متعلق پاکستان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں دے سکا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پہلگام واقعہ
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔