ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حریت رہنما کی اہلیہ نے خبردار کیا کہ انتہا پسند بھارت علاقائی اور عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پیس اینڈ کلچر آرگنائزیشن کی چیئرپرسن مشعال حسین ملک نے کہا ہے کہ پاکستان کو بھارت کی بڑھتی ہوئی انتہا پسندی کا موثر انداز میں مقابلہ کرنے کے لیے ایک جارحانہ حکمت عملی اپنانی چاہیے۔ ذرائع کے مطابق مشعال ملک نے جو غیر قانونی طور پر نظربند سینئر حریت رہنما محمد یاسین ملک کی اہلیہ ہیں، ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خبردار کیا کہ انتہا پسند بھارت علاقائی اور عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان شملہ معاہدے سے فوری طور پر دستبردار ہو جائے کیونکہ یہ معاہدہ پانچ دہائیاں گزرنے کے باوجود کشمیریوں کو انصاف فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ اپنے مقصد کو پورا کرنے میں بری طرح ناکام رہا اور کشمیریوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوا، کیونکہ امن کو برقرار رکھنے اور کشمیریوں کے حق خودارادیت کا احترام کرنے کے بجائے بھارت کی ہندوتوا حکومت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں اپنے جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں اضافہ کیا ہے۔مشعال ملک نے کہا کہ انتہا پسند بھارتی حکومت نے نہ صرف پہلگام واقعے کو بہانہ بنا کر کشمیریوں کی منظم نسل کشی کو تیز کر دیا ہے بلکہ وہ پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر کی ان خواتین کو بھی زبردستی ملک بدر کر رہی ہے جنہوں نے کشمیریوں سے شادی کی تھی۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ہندوتوا حکومت بے رحمی سے ان خاندانوں کو تقسیم کر رہی ہے اور معصوم بچوں کو ان کی مائوں سے جبری جدائی کے صدمے سے دوچار کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ معصوم کشمیری مردوں، عورتوں اور بچوں کو ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی، جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ستم ظریفی یہ ہے کہ پوری دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کے بعد پاکستان کو بھی جارحانہ انداز اپنانا چاہیے اور شملہ معاہدے سے نکل آنا چاہیے۔انہوں نے خبردار کیا کہ بھارتی حکومت ایک بار پھر فالس فلیگ آپریشن کی منصوبہ بندی کر رہی ہے اور بھارت کی اشتعال انگیزی سے خطے میں تباہ کن جوہری جنگ چھڑ سکتی ہے۔ حریت رہنما نے عالمی برادری اور عالمی طاقتوں پر زور دیا کہ وہ دہائیوں پرانے تنازعہ کشمیر کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے عالمی برادری، اقوام متحدہ کے اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ بھارت کی بڑھتی ہوئی فسطائیت کا نوٹس لیں اور مقبوضہ وادی میں اس کے جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی بے دریغ خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ کر رہی ہے بھارت کی کیا کہ رہا ہے کے لیے

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • کراچی، فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا میں پولیس مقابلہ، 2 زخمی ڈاکو گرفتار، چھینی گئی موٹر سائیکل برآمد
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن