عجب کرپشن کی غضب کہانی ، پی اے آر سی کو 2کروڑ 50 لاکھ روپے سے زائد کا چونا
اشاعت کی تاریخ: 4th, May 2025 GMT
عجب کرپشن کی غضب کہانی ، پی اے آر سی کو 2کروڑ 50 لاکھ روپے سے زائد کا چونا WhatsAppFacebookTwitter 0 4 May, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (ارمان یوسف)پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل (پی اے آر سی)میں عجب کرپشن کی غضب کہانی سامنے گئی، زرعی تحقیق کے ادارے میں صرف گزشتہ پانچ ماہ میں قومی خزانے کو 2 کروڑ 50 لاکھ روپے سے زائد کا چونا لگا دیا گیا،چیئرمین پی اے آر سی ڈاکٹر غلام محمد علی نے اختیارات کے غلط استعمال سے بعض منظور نظر اور من پسند لوگوں کو ان کی سالانہ تنخواہ سے بھی زیادہ کیش ایوارڈ سے نواز دیا ،کیش ایوارڈ کی بورڈ آف گورنرز سے بھی منظوری نہیں لی گئی۔
سب نیوز کو موصول ہونے والی دستاویز کے مطابق پی ایس ڈی پی اے اور بجٹ منصوبوں میں سے دسمبر 2024میں ایک دفعہ جبکہ فروری، مارچ اور اپریل 2025کے دوران 10 دفعہ کیش ایوارڈ کے نام پر چیک کے ذریعے رقم نکلوائی گئی، یہ رقم 2 کروڑ 8 لاکھ روپے سے زائد بنتی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ رقم چیئرمین پی اے آر سی نے اپنے آپ کو اور اپنے قریبی لوگوں کو کیش ایوارڈ دینے کے نام پر نکلوائی ،بعض منظور نظر اور من پسند لوگوں کو ان کی سالانہ تنخواہ سے بھی زیادہ کیش ایوارڈ دیا گیا، علاوہ ازیں اے ایل پی منصوبوں سے بھی اسی مد میں 49 لاکھ روپے نکالے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ ساری رقم صرف گزشتہ پانچ ماہ میں نکلوائی گئی ہے جبکہ گزشتہ 3 سالوں میں قومی خزانے کو اس سے کئی گنا زائد رقم کا چونا لگائے جانے کا خدشہ ہے۔
پی اے آر سی کے قوائد کے مطابق اچھی کارکردگی پر کسی افسر کو کیش ایوارڈ دیا جاتا ہے تاہم اس کی بورڈ آف گورنرز سے منظوری لینا لازم ہوتا ہے تاہم اس کیس میں نہ تو بی او جی سے منظوری لی گئی ہے اور نہ ہی ایسا کوئی منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچا ہے جس میں اچھی کارکردگی کا جواز بنا کر کیش ایوارڈ کی منظوری دی جائے۔ گزشتہ روز پبلک اکائونٹس کمیٹی میں بھی یہ انکشاف کیا گیا تھا کہ پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل کے متعدد منصوبے سالوں سے التوا کا شکار ہیں اور ناقص کارکردگی کی وجہ سے نہیں تاحال مکمل نہیں کیا جا سکا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسی ڈی اے ، فائر فائٹرز کے عالمی دن کے موقع پر پرچم مارچ کا انعقاد سی ڈی اے ، فائر فائٹرز کے عالمی دن کے موقع پر پرچم مارچ کا انعقاد وفاقی وزراء، وزرائے مملکت کی تنخواہ ممبران قومی اسمبلی کے برابر ہوگی، صدر نے آرڈیننس جاری کر دیا عمان کے ساتھ منشیات اور انسانی اسمگلنگ کیخلاف تعاون بڑھانا چاہتے ہیں، وزیر داخلہ صدر مملکت نے قومی اسمبلی کا اجلاس کل طلب کر لیا پاک بھارت کشیدگی: ایرانی وزیر خارجہ کل پاکستان کا ایک روزہ دورہ کریں گے اسلام آباد پولیس کی ایک اور شاندار کامیابی: سنٹورس مال سے اغوا ہونے والا تین سالہ بچہ بازیاب، اغوا کار خاتون گرفتارCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: لاکھ روپے سے زائد پی اے آر سی کیش ایوارڈ کے مطابق کا چونا سے بھی
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا بڑا ریلیف، گھر کی مرمت اور توسیع کے لیے 10 لاکھ روپے تک بلاسود قرض کا اعلان
لاہور: اپنی چھت محفوظ چھت پروگرام 2026 کے تحت پنجاب حکومت نے ایسے شہریوں کے لیے خوشخبری سنائی ہے جو اپنے گھروں کی مرمت، مضبوطی یا توسیع کرنا چاہتے ہیں۔ اس منصوبے کے ذریعے اہل درخواست گزاروں کو 5 لاکھ سے 10 لاکھ روپے تک بلاسود قرض فراہم کیا جائے گا تاکہ وہ بغیر سود کے اپنے گھر کی ضروری تعمیراتی ضروریات پوری کر سکیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اس پروگرام کا مقصد کم اور متوسط آمدن رکھنے والے خاندانوں کو بہتر رہائشی سہولیات فراہم کرنا اور گھروں کی محفوظ تعمیر و مرمت میں مالی مدد دینا ہے۔
دو مختلف کیٹیگریز میں قرض فراہم کیا جائے گا
اس اسکیم کے تحت قرضوں کی فراہمی کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔
پہلی کیٹیگری ان افراد کے لیے مختص ہے جو اپنے موجودہ گھر کی چھت کی مرمت، بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی یا ضروری تعمیراتی کام کروانا چاہتے ہیں۔ ایسے درخواست گزار 5 لاکھ روپے تک بلاسود قرض حاصل کر سکیں گے، جس کی واپسی 9 سال کے دوران آسان ماہانہ اقساط میں ہوگی۔ اس کی متوقع ماہانہ قسط تقریباً 4 ہزار 700 روپے ہوگی۔
دوسری کیٹیگری ان شہریوں کے لیے رکھی گئی ہے جو اپنے گھر میں توسیع، جیسے دوسری منزل یا اضافی کمروں کی تعمیر، کرنا چاہتے ہیں۔ انہیں 10 لاکھ روپے تک بلاسود قرض دیا جائے گا، جسے بھی 9 سال میں واپس کرنا ہوگا۔ اس قرض کی متوقع ماہانہ قسط تقریباً 9 ہزار 300 روپے ہوگی۔
درخواست کیسے دیں؟
اپنی چھت محفوظ چھت پروگرام 2026 کے لیے درخواست دینے کے خواہشمند افراد پنجاب حکومت کے مخصوص آن لائن پورٹل کے ذریعے رجسٹریشن کر سکتے ہیں۔ درخواست جمع کراتے وقت شناختی اور دیگر ضروری دستاویزات فراہم کرنا لازمی ہوگا۔
وہ افراد جو انٹرنیٹ کے ذریعے درخواست نہیں دے سکتے، ان کے لیے متبادل سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔ ایسے شہری اپنی درخواست متعلقہ ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر یا پنجاب ہاؤسنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ ایجنسی کے دفاتر میں جمع کرا سکتے ہیں۔
حکومت نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ درخواست جمع کرانے سے پہلے اپنی تمام معلومات اور دستاویزات مکمل کر لیں تاکہ درخواست کی جانچ کے عمل میں کسی قسم کی دشواری پیش نہ آئے۔