ہم نہیں آئیں گے، پی ٹی آئی کا پاکستان بھارت کشیدگی پر بریفنگ میں شرکت سے انکار
اشاعت کی تاریخ: 4th, May 2025 GMT
عمران خان کی جماعت پی ٹی آئی پاک بھارت کشیدگی پر وفاقی حکومت کی بریفنگ میں نہیں جائے گی۔
پی ٹی آئی کے بانی عمران خان اڈیالہ جیل س میں کرپشن کے جرم میں اپنی قید کے دوران ہی ٹی آئی کے بیشتر فیسلے خود کرتے ہیں تاہم انہوں نے پارٹی پر اپنا کنٹرول رکھنے کے لئے اپنے وفاداروں کی ایک سیاسی کمیتی بھی بنا رکھی ہے، اس "سیاسی کمیٹی" کے اتوار کو میدیا کو جاری کئے گئے ایک "اعلامیے" میں کہا گیا ہے کہ تحریک انصاف حکومت کی پاکستان انڈیا کشیدگی کے متعلق بریفنگ میں شرکت نہیں کرے گی۔
پی ایس ایل 10: لاہور قلندرز اور کراچی کنگز میں آج جوڑ پڑے گا
اعلامیے میں ایک طرف کہا گیا ہے کہ وہ وفاقی حکومت کی بریفنگ مین نہیں جائیں گے، اس کے ساتھ ہی یہ جملہ بھی شامل کیا گیا ہے کہ بانی نےقومی یکجہتی، اتحاد اور داخلی استحکام کی ضرورت پر زور دیا ہے اور دہشت گردی کی مذمت کی ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کو آل پارٹیزکانفرنس بلانی چاہیے تھی، تمام قومی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دیا جاتا۔ حکومتی وزیر کی طرف سے یک طرفہ بریفنگ دی جا رہی ہے۔
9سالہ بچی کے ساتھ زیادتی کی کوشش کرنے والا ملزم عمر گرفتار
واضح رہے کہ کشیدگی کی صورتحال پر بریفنگ کا مقصد پارلیمانی پارٹیوں کے رہنماؤں کو کشیدگی کی صورتحال کے ھقائق سے آگاہ کرنا ہے۔ یہ بریفنگ ٹیکنیکل نویعت کی ہے اور اس میں مسلح افواج کے ادارہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل بریفنگ دیں گے اور وزیر اطلاعات رسماً ان کے ساتھ بیٹھیں گے۔
وزارتِ اطلاعات کے مطابق تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو قومی سلامتی کی صورتِ حال پر بریفنگ میں بلایا گیا ہے۔
بانی پی ٹی آئی آج بھی مقبول لیڈر ہیں:مسرت چیمہ
یہ پہلا موقع نہین ہے جب پی ٹی آئی اجتماعی قومی مفاد کے اہم ترین مواقع پر قوم کے ساتھ شریک نہیں ہو رہی۔ پہلے بھی کئی کروشل مواقع پر ایسا ہو چکا ہے۔
Waseem Azmet.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
کالج میں دیمک زدہ نقدی اور ’خفیہ کمرہ‘ برآمد، سیاسی پارٹیوں میں کشیدگی
۔
۔
کولکاتا کے ایک معروف تعلیمی ادارے میں صفائی مہم کے دوران حیران کن انکشاف سامنے آیا ہے، جہاں دیمک زدہ ایک لاکھ روپے سے زائد نقدی برآمد ہوئی، جبکہ بعد ازاں ایک مبینہ ’خفیہ کمرہ‘ بھی دریافت ہوا جس نے ادارے کے انتظامی اور سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔
دیمک زدہ رقم زیادہ تر 100 اور 500 روپے کے نوٹوں پر مشتمل تھی، جو دو پرانے سفری سوٹ کیسز میں ایک الماری کے اندر رکھی گئی تھی۔ حکام کے مطابق یہ نوٹ شدید طور پر خراب اور دیمک زدہ حالت میں پائے گئے۔
یہ صفائی مہم مون سون سے قبل تعلیمی ادارے کی صفائی اور بہتری کے لیے شروع کی گئی تھی، جس کی ہدایت شہری انتظامیہ کی جانب سے دی گئی تھی۔ دورانِ کارروائی جب کمروں کی جانچ پڑتال کی گئی تو یہ نقدی برآمد ہوئی۔
ایک اہلکار کے مطابق، ’زیادہ تر نوٹ خراب اور گندے ہو چکے ہیں۔ ان کی مکمل فہرست (انوینٹری) تیار کی جا رہی ہے اور ویریفیکیشن کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔‘
نقدی کے ذریعے اور اسے رکھنے والے افراد کی شناخت تاحال سامنے نہیں آ سکی ہے، تاہم اس واقعے نے سیاسی تنازع کو جنم دے دیا ہے۔
بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی کے رکن اسمبلی سجل گھوش نے الزام عائد کیا ہے کہ اس کے پیچھے بدعنوانی ہو سکتی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کالج یونین روم میں اتنی بڑی رقم کسی کی معلومات کے بغیر کیسے موجود رہ سکتی ہے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔
ادھر کالج انتظامیہ کی جانب سے اس معاملے پر تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔
واقعے کے اگلے روز حکام نے سرندرناتھ کالج میں ایک مبینہ ’خفیہ کمرہ‘ بھی دریافت کیا، جسے مبینہ طور پر ترنمول کانگریس کے ایک رہنما سے منسوب کیا جا رہا ہے۔
حکام کے مطابق جب وہ یونیورسٹی کی چھت تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے تو انہیں ایک مکمل طور پر تیار شدہ کمرہ ملا، جس میں ایئر کنڈیشنر، آرام دہ بستر، دیوار پر لگی گھڑی اور آرائشی پینٹنگز موجود تھیں۔
اس کے ساتھ ہی ایک جدید اور مکمل طور پر تیار شدہ واش روم بھی برآمد ہوا۔ مزید برآں، حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ اسی کمرے سے ایک آتشیں اسلحہ بھی ملا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس بات کی تحقیقات جاری ہیں کہ یہ کمرہ کس مقصد کے لیے استعمال ہوتا تھا اور یہاں کون کون آتا جاتا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انڈیا دیمک زدہ کرنسی نوٹ کولکتہ کالج