اسرائیل کا ایران اور حوثیوں کے خلاف کارروائی کا عندیہ، ایران کی جوابی وار کی دھمکی
اشاعت کی تاریخ: 5th, May 2025 GMT
اسرائیل کے مرکزی ہوائی اڈے کے علاقے میں حملے پر اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے یمن کے حوثیوں اور ان کے ایرانی حمایتیوں کے خلاف جوابی کارروائی کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کے بین گوریون ایئرپورٹ پر حوثیوں کا میزائل حملہ، 6 زخمی
عرب نیوز کے مطابق اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ یہ حملہ یمن سے کیا گیا تھا۔ ایک ویڈیو میں نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل نے ماضی میں بھی ایران کے حمایت یافتہ گروپ کے خلاف کارروائی کی ہے اور آئندہ بھی کارروائی کرے گا۔
پولیس کی ایک ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ افسران زمین میں ایک گہرے گڑھے کے کنارے کھڑے ہیں جس کے پیچھے کنٹرول ٹاور نظر آتا ہے۔ ہوائی اڈے کے بنیادی ڈھانچے کو کسی نقصان پہنچنے کی اطلاع نہیں ملی ہے۔
مزید پڑھیے: اسرائیل نے امدادی سامان غزہ پہنچانے والا بحری جہاز بمباری سے تباہ کردیا
اے ایف پی کے ایک فوٹوگرافر نے بتایا کہ میزائل ایئرپورٹ کے سب سے بڑے ٹرمینل 3 کی پارکنگ لاٹ کے قریب گرا تھا۔
‘حملہ ہوا تو ایران جوابی وار کرے گادریں اثنا میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل کی اس دھمکی کے بعد ایران نے بھی اپنا رد عمل دے دیا۔
ایران کے وزیر دفاع عزیز ناصر زادہ نے کہا ہے کہ امریکا یا اسرائیل نے اس پر حملہ کیا تو ایران جوابی حملہ کرے گا۔
اپنے بیان میں عزیز ناصر زادہ نے کہا کہ امریکا یا اسرائیل نے پہل کی تو ان کے مفادات، فورسز اور بیسز کو جب اور جہاں ضرورت ہوگی نشانہ بنایا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل اسرائیل کی دھمکی نیتن یاہو.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل اسرائیل کی دھمکی نیتن یاہو اسرائیل نے
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔