سندھ کے مہاجر یوم آزادی اور معرکہ حق بھرپور انداز سے منائیں، ڈاکٹر سلیم حیدر
اشاعت کی تاریخ: 3rd, August 2025 GMT
چیئرمین مہاجر اتحاد تحریک نے کہا کہ ایم آئی ٹی مہاجروں کی واحد جماعت ہے جو علیحدگی پسندوں کے سامنے سب سے بڑی رکاوٹ ہے جو ہمیشہ علیحدگی پسند قوتوں کیخلاف کھڑی رہی ہے، ہمیشہ سندھودیش اور علیحدگی پسند سندھیوں کو جس طرح ایم آئی ٹی نے للکارا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مہاجر اتحاد تحریک کے سربراہ ڈاکٹر سلیم حیدر نے سندھ بھر کے مہاجروں سے اپیل کی ہے کہ وہ پاکستان کے جشن آزادی اور معرکہ حق میں بھرپور کامیابی کو شاندار انداز میں منائیں، مہاجر جوکہ بانیان پاکستان کی اولاد ہیں جنہوں نے پاکستان بنانے اور پاکستان کو بچانے کیلئے لاکھوں جانوں کے نذرانے پیش کئے آج بھی پاکستان کی سلامتی اور استحکام کیلئے وہ کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ مہاجر پاکستان سے نہ صرف محبت کرتے ہیں بلکہ پاکستان کی ترقی و خوشحالی کیلئے اپنا تن من دھن قربان کرنے کو تیار ہیں لیکن بدقسمتی سے سندھ میں مہاجروں کے ساتھ تیسرے درجے کا سلوک روا رکھا جارہا ہے، انہیں جس طرح ہر سطح پر نظرانداز کیا گیا ہے اس سے مہاجروں خاص طورپر نوجوانوں میں مایوسی پائی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج جس طرح بھارت کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا ہے اس کے بعد پوری دنیا میں پاکستان کا ایک نیا چہرہ اُبھر کر سامنے آیا ہے، ہم یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے دفاع کو اس قدر مضبوط ہونا چاہیئے کہ کبھی کسی دشمن کی جرات نہ ہو کہ وہ پاکستان پر میلی نگاہ ڈالے۔ انہوں نے خاص طور پر ایم آئی ٹی کے کارکنوں، ہمدردوں اور نظریاتی وابستگی رکھنے والے افراد سے اپیل کی کہ وہ یوم آزادی پر اپنے گھروں، بازاروں، دکانوں اور علاقوں کو سجائیں، اپنے بچوں میں جذبہ حب الوطنی کو مزید بیدار کریں تاکہ ملک دشمن قوتوں کو پتہ لگ سکے کہ پاکستانی متحد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایم آئی ٹی مہاجروں کی واحد جماعت ہے جو علیحدگی پسندوں کے سامنے سب سے بڑی رکاوٹ ہے جو ہمیشہ علیحدگی پسند قوتوں کیخلاف کھڑی رہی ہے، ہمیشہ سندھودیش اور علیحدگی پسند سندھیوں کو جس طرح ایم آئی ٹی نے للکارا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: علیحدگی پسند پاکستان کی کہ پاکستان ایم آئی ٹی نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
سکھر:سندھ کے مختلف اضلاع میں آنے والی شدید آندھی، مٹی کے طوفان اور موسلا دھار بارش نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔
مورو میں طوفانی ہواؤں کے باعث گھروں، دکانوں، ہوٹلوں اور سرکاری و نیم سرکاری عمارتوں کی چھتوں پر نصب سولر پلیٹیں اور سائن بورڈ اکھڑ کر دور جا گرے جبکہ متعدد مقامات پر درخت اور بجلی کی تاریں بھی زمین بوس ہوگئیں۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق مختلف حادثات میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
کئی علاقوں میں شہری خوف و ہراس کا شکار رہے جبکہ طوفان کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے۔
دوسری جانب لاڑکانہ، شکارپور، دادو اور گرد و نواح میں خراب موسمی صورتحال کے باعث بجلی کا ترسیلی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا۔
سیپکو حکام کے مطابق شدید آندھی اور بارش کے نتیجے میں 220 کے وی گرڈ اسٹیشن لوڈرا، شکارپور اور دادو سے آنے والی 132 کے وی مین سپلائی متاثر ہوگئی جس کے باعث لاڑکانہ سرکل کے متعدد فیڈرز بند ہوگئے۔
سیپکو کنٹرول سینٹر کے مطابق طوفانی موسم سے 220 کے وی اور 132 کے وی کی متعدد اہم ٹرانسمیشن لائنیں ٹرپ کر گئیں جبکہ کئی مقامات پر ٹاورز، پولز اور بجلی کی لائنوں کو نقصان پہنچا ہے۔
صورتحال کے باعث مجموعی طور پر 46 گرڈ اسٹیشنز متاثر ہوئے جس سے لاڑکانہ، قمبر، شہدادکوٹ، کشمور، کندھکوٹ، گھوٹکی، خیرپور، نوشہروفیروز، مورو اور دیگر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل یا شدید متاثر ہوگئی۔
سیپکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر اعجاز احمد چنہ کی ہدایات پر آپریشن، کنسٹرکشن، جی ایس او اور فیلڈ ٹیموں کو ہنگامی بنیادوں پر متحرک کر دیا گیا ہے۔
انجینئرز اور تکنیکی عملہ متاثرہ علاقوں میں مرمتی کاموں میں مصروف ہے اور خراب ہونے والے پولز، ٹاورز اور ٹرانسمیشن لائنوں کی بحالی کا عمل جاری ہے۔
سیپکو حکام کا کہنا ہے کہ ادارہ اپنے تمام دستیاب وسائل استعمال کرتے ہوئے بجلی کی جلد بحالی کے لیے کام کر رہا ہے تاہم شدید موسمی حالات کے باعث مرمتی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔
متاثرہ علاقوں کے صارفین سے صبر و تحمل کی اپیل کرتے ہوئے یقین دلایا گیا ہے کہ بجلی کی فراہمی جلد از جلد بحال کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔