ایف آئی اے کا حوالہ ہنڈی والوں کیخلاف کریک ڈاؤن، 9 ملزمان گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 26th, July 2025 GMT
ایف آئی اے کے مطابق ملزمان کو پشاور، نوشہرہ، مردان اور لوئر دیر کے مختلف علاقوں سے گرفتار کیا گیا جبکہ چھاپے کے دوران ملزمان سے بھاری مالیت کی ملکی و غیر ملکی کرنسی برآمد ہوئی۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے پشاور میں کارروائی کر کے حوالہ ہنڈی کا کام کرنے والے گروہ کے 9 کارندوں کو گرفتار کرلیا۔ تفصیلات کے مطابق ایف آئی اے پشاور زون نے حوالہ ہنڈی اور غیر قانونی کرنسی ایکسچینج میں ملوث نیٹ ورکس کے خلاف کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 9 ملزمان گرفتار کرلیا۔ گرفتار ملزمان میں محمد حمزہ خان، محمد یٰسین، امداد اللہ اور دانش جمیل، موصم، محمد ابرار، ذاکر علی، محمد علی اور حق نواز بھی شامل ہیں۔ ایف آئی اے کے مطابق ملزمان کو پشاور، نوشہرہ، مردان اور لوئر دیر کے مختلف علاقوں سے گرفتار کیا گیا جبکہ چھاپے کے دوران ملزمان سے بھاری مالیت کی ملکی و غیر ملکی کرنسی برآمد ہوئی۔
ملزمان سے مجموعی طور 34 لاکھ 60 ہزار روپے برآمد، جبکہ غیر ملکی کرنسی کی مد میں 9300 سعودی ریال، 500 اماراتی درہم، 1250 قطری ریال اور 750 افغانی بھی برآمد ہوئے۔ ایف آئی اے ترجمان کے مطابق ملزمان سے حوالہ ہنڈی سے متعلق رسیدیں اور دیگر شواہد بھی برآمد کر لیے گئے، ملزمان بغیر لائسنس کرنسی ایکسچینج کا کاروبار کرنے اور حوالہ ہنڈی میں ملوث پائے گئے۔ گرفتار ملزمان سے تفتیش کا آغاز کردیا گیا ہے جس کے دوران اہم شواہد سامنے آنے کی توقع ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: حوالہ ہنڈی ایف ا ئی اے کے مطابق
پڑھیں:
سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم
کراچی کی سٹی کورٹ میں ڈاکٹر آکاش قتل کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے پولیس کو مقدمے کی تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم جاری کر دیا۔
پولیس کے مطابق ایس آئی یو ویسٹ نے ڈاکٹر آکاش کے قتل میں ملوث ملزمان کے خلاف مزید کارروائی کرتے ہوئے تین افراد، سریش عرف ساگر، انیل اور رام چند کے قتل کا مقدمہ اسلم پہنور اور اس کے ساتھیوں کے خلاف درج کر لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اسلم پہنور ایک ڈکیت گروہ کا سرغنہ ہے۔
پولیس کے مطابق ملزمان نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں زیر حراست تین ملزمان اور ایک ہیڈ کانسٹیبل زخمی ہو گئے۔ بعد ازاں زیر حراست تینوں ملزمان اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے، جبکہ زخمی ہیڈ کانسٹیبل کو اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں اس کا علاج جاری ہے۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر آکاش کو بینک سے رقم لے کر جاتے ہوئے قتل کیا گیا تھا۔ پولیس نے اس کیس میں تین ملزمان کو گرفتار کیا تھا، جو دوران حراست ہلاک ہو گئے۔