پاک بھارت کشیدگی، وزیر اطلاعات اور ڈی جی آئی ایس پی آر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو آج بریفنگ دیں گے
اشاعت کی تاریخ: 5th, May 2025 GMT
اسلام آباد:
پاک بھارت کشیدگی اور موجودہ صورت حال کے پیش نظر سیاسی جماعتوں کے سرکردہ رہنماؤں کو قومی سلامتی کی صورت حال سے متعلق آج بریفنگ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ اور ڈی جی آئی ایس پی آر جنرل احمد شریف کل (اتوار) کو تمام سیاسی جماعتوں کے سرکردہ راہنماؤں کو موجودہ قومی سلامتی کی صورتحال پر اہم بیک گراؤنڈ بریفنگ دیں گے۔
یہ بریفنگ پاکستان اور بھارت کے درمیان موجودہ قومی سلامتی کی کی صورتحال اور اس کے مضمرات کے حوالے سے ہو گی۔ اعلامیے کے مطابق شرکاء کو افواج پاکستان کی دفاعی تیاریوں، سفارتی اقدامات اور ریاستی مؤقف سے آگاہ کیا جائے گا۔
موجودہ صورتحال میں یہ بریفنگ قومی یکجہتی اور اتحاد واتفاق کی اعلی مثال ہے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔