بلوچستان: مسلح افراد نے نوشکی خاران روڈ منصوبے پر کام کرنیوالے 4 مزدور اغوا کرلیے
اشاعت کی تاریخ: 5th, May 2025 GMT
کوئٹہ(نیوز ڈیسک)بلوچستان کے ضلع نوشکی کے علاقے البات میں نامعلوم مسلح افراد نے نوشکی خاران روڈ پروجیکٹ پر کام کرنے والے 4 مزدوروں کو اغوا کرلیا۔
نجی اخبار میں شائع خبر کے مطابق لیویز حکام نے بتایا کہ ایک نجی تعمیراتی کمپنی کی جانب سے نوشکی خاران روڈ کی تعمیر کا کام جاری تھا، کمپنی نے البات کے علاقے میں کیمپ قائم کر رکھا تھا، مسلح افراد کا ایک گروپ جائے وقوعہ پر پہنچا اور تعمیراتی مشینری پر فائرنگ کرکے نقصان پہنچایا۔
حملہ آوروں نے اسلحے کے زور پر 4 مزدوروں کو یرغمال بنا لیا، اور علاقے سے فرار ہوگئے، اطلاع ملنے پر سیکیورٹی فورسز موقع پر پہنچ گئیں، اور علاقے کو گھیرے میں لے کر مغوی کارکنوں کی بازیابی کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا۔
قیدیوں کو لے جانے والے مغوی پولیس اہلکار تاحال لاپتا
ایک اور واقعے میں ضلع قلات کے علاقے منگوچر میں مسلح افراد کی جانب سے 10 زیر سماعت اور سزا یافتہ قیدیوں کو لے جانے والی گاڑی کی حفاظت کے دوران اغوا کیے گئے 5 پولیس اہلکاروں کے حوالے سے بھی کوئی معلومات نہیں مل سکیں۔
قیدیوں کو ضلع حب کی گڈانی جیل سے کوئٹہ اور مچھ جیل میں منتقل کیا جا رہا تھا، حکام نے بتایا کہ مسلح عسکریت پسندوں نے منگوچر میں کوئٹہ-کراچی قومی شاہراہ کو بند کر رکھا تھا، انہوں نے قیدیوں کی وین کو روکا۔
حملہ آوروں نے گاڑی چھین لی، 10 قیدیوں کو رہا کیا اور بندوق کی نوک پر 5 پولیس اہلکاروں کو سرکاری اسلحے سمیت قریبی پہاڑی علاقوں میں لے گئے، تاہم انہوں نے ڈرائیور اور گاڑی کو چھوڑ دیا تھا۔
سیکیورٹی فورسز نے مغوی پولیس اہلکاروں کی بازیابی کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
کالعدم علیحدگی پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے ایک افسر سمیت 5 پولیس اہلکاروں کے اغوا کی ذمہ داری قبول کی ہے، گروپ نے مغوی افسران کی تصاویر بھی جاری کیں۔
عمران خان کی پے رول پر رہائی کا کوئی امکان نہیں: عطا تارڑ
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: پولیس اہلکاروں مسلح افراد قیدیوں کو
پڑھیں:
چیمپئنز لیگ جیتنے کی خوشی تشدد میں بدل گئی، پیرس میں جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپیں
یورپی چیمپئنز لیگ میں پی ایس جی کی کامیابی کے بعد فرانس کے دارالحکومت پیرس میں جشن پرتشدد ہنگاموں میں تبدیل ہو گیا۔ مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں، جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کے واقعات میں متعدد افراد زخمی ہوئے، جبکہ پولیس نے 400 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا۔
یورپی چیمپئنز لیگ کے فائنل میں پی ایس جی کی فتح کے بعد فرانس کے دارالحکومت پیرس میں جشن کا ماحول بدامنی اور تشدد میں تبدیل ہو گیا، جہاں مشتعل افراد نے جلاؤ گھیراؤ، توڑ پھوڑ اور پولیس کے ساتھ جھڑپوں کا سلسلہ شروع کر دیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں مظاہرین نے بوتل بم پھینکے، متعدد دکانوں پر حملے کیے اور سڑکوں پر موجود کچرے کے ڈبوں سمیت دیگر اشیا کو آگ لگا دی۔ ہنگامہ آرائی کے دوران درجنوں گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔
مظاہرین اور پولیس کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں کم از کم سات پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ بعض شرپسند عناصر نے آتش بازی کا رخ آسمان کے بجائے پولیس اہلکاروں کی جانب کر دیا، جس کے باعث کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا۔
فرانسیسی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 400 سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا۔ حکام کے مطابق گرفتار افراد کے قبضے سے تیزاب سے بھری بوتلیں اور دیگر خطرناک مواد بھی برآمد کیا گیا ہے۔
حکام کو پہلے ہی ممکنہ ہنگامہ آرائی کا خدشہ تھا، جس کے پیش نظر پیرس میں 22 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔ اس کے باوجود شہر کے مختلف حصوں میں جلاؤ گھیراؤ اور پرتشدد واقعات کو مکمل طور پر روکنا ممکن نہ ہو سکا۔
واضح رہے کہ پیرس سینٹ جرمین (PSG) نے چیمپئنز لیگ کے فائنل میں آرسنل کو شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کیا، جس کے بعد ہزاروں شائقین جشن منانے کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔ تاہم بعض مقامات پر یہ جشن بدامنی اور تشدد میں تبدیل ہو گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں