ملک بھر میں ژالہ باری اور موسلادھار بارش کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 5th, May 2025 GMT
کراچی میں آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران موسم گرم و مرطوب رہنے کا امکان ہے تاہم شام میں کہیں کہیں آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ کراچی سمیت سندھ بھر میں بھی آج بارشوں کا امکان ہے۔ ملک کے مختلف علاقوں میں برسات کا سلسلہ زوروں پر ، کہیں موسلادھار بارش تو کہیں ژالہ باری نے نظامِ زندگی کو متاثر کیا ہے۔ اسلام آباد میں موسلادھار بارش کے بعد جل تھل ایک ہوگیا،لاہور،ضلع جہلم، فیصل آباد، لودھراں، لالیاں، کلورکوٹ اور ملحقہ علاقوں میں موسلا دھار بارش ریکارڈ کی گئی، جس سے موسم خوشگوار ہوگیا۔ ایبٹ آباد، سوات اور ملاکنڈ میں بارش وقفے وقفے سے جاری ہے جبکہ آزاد کشمیر کے علاقے پلندری میں بھی تیز بارش ہوئی۔ ادھر راجن پور کی تحصیل جام پور میں پہاڑی علاقے کوہِ سلیمان پر بارش کے دوران آسمانی بجلی گرنے سے دو سگے بھائی جان کی بازی ہار گئے، واقعے کے بعد علاقے میں فضا سوگوار ہے۔ کرک میں طوفانی بارش اور ژالہ باری سے ندی نالوں میں طغیانی آگئی، جس کے نتیجے میں دو افراد مویشیوں سمیت بہہ گئے۔ شدید ژالہ باری سے گندم کی تیار فصل کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ بلوچستان کے اضلاع کوہلو، ڈیرہ بگٹی اور گردونواح میں بھی گرج چمک کے ساتھ بارش ہوئی جس سے نشیبی علاقے زیرِ آب آگئے ہیں۔ محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران بالائی علاقوں میں مزید طوفانی بارش اور ژالہ باری کا امکان ہے۔ پیر کے روز کراچی، سکھر، لاڑکانہ، دادو، شہید بینظیر آباد اور بلوچستان کے مختلف حصوں میں بھی بادل برسنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ژالہ باری کا امکان میں بھی
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک