بارش، ژالہ باری اور آسمانی بجلی، بلوچستان میں چار افراد اور سینکڑوں مویشی ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 5th, May 2025 GMT
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں موسلا دھار بارش، ژالہ باری اور آسمانی بجلی گرنے کے نتیجے میں کم از کم چار افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ سینکڑوں مویشی بھی ہلاک ہو گئے۔ حکام کے مطابق کئی علاقوں میں شدید ژالہ باری سے فصلوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو دنوں کے دوران شیرانی، ژوب، قلعہ سیف اللہ، بارکھان، موسیٰ خیل، کوہلو، ڈیرہ بگٹی، خضدار، نصیرآباد، جعفرآباد، صحبت پور، جھل مگسی اور اوستہ محمد سمیت متعدد علاقوں میں تیز ہواؤں، گرج چمک، بارش اور ژالہ باری ہوئی ہے اور کچھ علاقوں میں اب بھی وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری ہے۔
ان بارشوں سے جہاں گرمی کی شدت اور خشک سالی کے اثرات میں کمی آئی ہے وہیں شدید ژالہ باری نے کئی مقامات پر کھڑی فصلوں کو بھی نقصان پہنچایا ۔
قدرتی آفات سے نمٹنے والے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے کے مطابق ژوب، موسیٰ خیل، بارکھان، خضدار اور کوہلو میں آسمانی بجلی گرنے کے متعدد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق خضدار کے علاقے سارونہ میں آسمانی بجلی گرنے سے کم از کم 140 جبکہ موسیٰ خیل میں 50 سے 60 اور کوہلو میں 40 سے 50 مویشی ہلاک ہوئے۔
موسیٰ خیل لیویز کے مطابق موضع زور میرن میں آسمانی بجلی گرنے سے ایک شخص روزالدین ہلاک ہوا۔ جبکہ یونین کونسل راڑہ شم میں ایک بچہ ریلے میں ڈوب کر ہلاک ہو گیا۔ اسی طرح موضع اولمئی میں اختر ملیزئی کے 30 دنبے آسمانی بجلی کی زد میں آ کر مر گئے۔
بارکھان میں شدید ژالہ باری کے نتیجے میں گندم کی کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچا۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق بارکھان کے علاقے حیسنی میں آسمانی بجلی گرنے سے ایک شخص زخمی ہوا جبکہ دو گائیں ہلاک ہوئیں۔ ادھر جھل مگسی کے گاؤں گزکھڑ میں تیز آندھی کے باعث مکان کی چھت گرنے سے محمد اشرف مگسی کی 30 بکریاں مر گئیں۔
لیویز نے ژوب کے علاقے کلی تورہ درگہ میں 10 سالہ خان باز کی آسمانی بجلی گرنے سے ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ ژوب کے مختلف علاقوں میں شدید ژالہ باری سے فصلوں کو نقصان پہنچنے کی بھی اطلاعات ہیں۔
ژوب کے رہائشی محمد عاطف نے بتایا کہ اولے اتنے بڑے تھے کہ ان کے نیچے کھڑا ہونا مشکل تھا۔ کئی منٹ تک مسلسل جاری رہنے والی ژالہ باری نے زمین پر سفید چادر بچھا دی اس دوران سولر پینلز اور کھڑی فصلوں کو بھی شدید نقصان پہنچایا۔
ادھر خضدار کی تحصیل کرخ میں ایک بچہ واٹر چینل میں ڈوب کر ہلاک ہوا ہے۔ خضدار کے علاقے سارونہ میں آسمانی بجلی گرنے سے درجنوں مویشی ہلاک ہوئے ہیں۔ متاثرہ افراد نے حکومت سے نقصان کے ازالے کی اپیل کی ہے۔
تیز ہواؤں اور بارش کے باعث کوہلو اور اوستہ محمد میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے جبکہ صحبت پور کے گوٹھ اسماعیل خان میں آسمانی بجلی گرنے سے کھیت میں آگ بھڑک اٹھی جس سے فصل کو نقصان پہنچا۔
محکمہ موسمیات کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مسلم باغ میں 15 ملی میٹر، اوستہ محمد میں 10، بارکھان میں 6 اور ژوب میں 1 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ سب سے زیادہ درجہ حرارت تربت میں 45.
محکمہ موسمیات نے پیشنگوئی کی ہے کہ منگل کو بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں موسم گرم، جزوی طور پر ابرآلود رہے گا اور تیز ہوائیں چلنے کا امکان ہے تاہم خضدار، کچھی، سوراب، کوئٹہ، پشین، قلعہ عبداللہ، ڈیرہ بگٹی، لسبیلہ، زیارت، قلات، ہرنائی، لورالائی، قلعہ سیف اللہ، ژوب، موسیٰ خیل، بارکھان اور کوہلو میں مزید بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ Post Views: 1
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: میں ا سمانی بجلی گرنے سے شدید ژالہ باری علاقوں میں کے علاقے فصلوں کو کے مطابق
پڑھیں:
چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
چیک ریپبلک کے مشرقی حصے میں ایک فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوگیا جس کے نتیجے میں ایک فوجی ہلاک جبکہ تین دیگر زخمی ہو گئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چیک وزارتِ دفاع اور فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حادثہ بدھ کے روز نامیشت ناد اوسلاوو ایئر فورس بیس پر پیش آیا جو دارالحکومت پراگ سے تقریباً 180 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے۔
حادثے کا شکار ہونے والا ہیلی کاپٹر UH-1Y Venom تھا، جس میں مجموعی طور پر 5 فوجی اہلکار سوار تھے۔ حادثے میں ایک اہلکار موقع پر ہی جان کی بازی ہار گیا جبکہ تین زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہیلی کاپٹر معمول کی فوجی تربیتی سرگرمی کے سلسلے میں پرواز کر رہا تھا، تاہم حکام نے ابھی تک اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے فوج نے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دیدی ہیں۔
چیک حکام کا کہنا ہے کہ اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں، آیا حادثہ تکنیکی خرابی، موسمی حالات یا انسانی غلطی کے باعث پیش آیا۔ تحقیقات کے نتائج سے میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا۔