طلباو طالبات کیلئے اچھی خبر “سٹوڈنٹ کارڈ” لانچ کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, May 2025 GMT
پنجاب حکومت نے “سٹوڈنٹ کارڈ” لانچ کرنے کا فیصلہ کرلیا، جس کے تحت تمام نجی و سرکاری تعلیمی اداروں کے سٹوڈنٹس کو سٹوڈنٹ کارڈ دیے جائیں گے۔
سٹوڈنٹ کارڈ پر سٹوڈنٹس کو مختلف جگہوں پر ڈسکاؤنٹ ملیں گے، طلبا سٹوڈنٹ کارڈ دکھانے پر مفت سفر کرسکیں گے۔ سٹوڈنٹس کی تعلیمی و ہم نصابی سرگرمیوں کی پروفائل بھی تیار ہوگی۔ سٹوڈنٹ کارڈ سےطلبا کو ملکی و بین الاقوامی سکالرشپس دی جائیں گی۔
محکمہ تعلیم پنجاب نے سٹوڈنٹ کارڈ کے اجرا پر کام شروع کردیا، اس حوالے سے کہنا ہے کہ سٹوڈنٹس کی مدد کرنیوالی مختلف کمپنیوں سے مدد حاصل کی جائے گی، سٹوڈنٹ کارڈ کے ذریعے تمام سٹوڈنٹس کا ڈیٹابیس تیار ہوگا ۔ سٹوڈنٹ کارڈ سے طلبا کو تعلیم کیساتھ کیرئیر میں بھی فائدہ ہوگا ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: سٹوڈنٹ کارڈ
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔