بھارتی اداکارہ وانی کپور کی انسٹاگرام پروفائل سے ان کی پاکستانی اداکار فواد خان کیساتھ آنے والی فلم ابیر گلال کی تمام پروموشنل پوسٹس اچانک غائب ہو گئی ہیں۔

 وانی کپور کے انسٹاگرام سے یہ پوسٹ غائب ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر قیاس آرائیاں گردش کرنے لگیں ہیں کہ انہوں نے شاید جان بوجھ کر اس فلم سے خود کو الگ کر لیا ہے۔ تاہم وانی کپور نے یہ پوسٹس خود سے ڈیلیٹ نہیں کی ہیں۔

رومانوی کامیڈی فلم ابیر گلال، جس میں وانی کپور کے ساتھ پاکستانی اداکار فواد خان مرکزی کردار میں ہیں، 9 مئی 2025 کو ریلیز ہونے جا رہی ہے۔ وانی کپور نے فواد خان کے ہمراہ فلم کی پروموشن کے سلسلے میں متعدد پوسٹس شیئر کی تھیں۔

تاہم بھارت میں حالیہ پہلگام واقعے کے بعد پاکستانی فنکاروں پر ڈیجیٹل پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں، جن کے تحت فواد خان کا انسٹاگرام اکاؤنٹ بھی بھارت میں بلاک کر دیا گیا ہے۔ فواد خان کا انسٹاگرام مواد بھارت میں حذف ہونے کے باعث وہ تمام پوسٹس بھی وانی کپور کی پروفائل سے خودکار طور پر غائب ہو گئیں، جن میں فواد خان کا تذکرہ یا ٹیگ شامل تھا۔

یہاں دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارت سے باہر موجود صارفین کو وہی پوسٹس اب بھی وانی کپور کے اکاؤنٹ پر نظر آ رہی ہیں کیونکہ یہ صرف بھارت میں بلاک ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: وانی کپور کے بھارت میں فواد خان

پڑھیں:

سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان

 اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ  سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔

 ’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

مزید :

متعلقہ مضامین

  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش