ارسا ایڈوائزری کمیٹی کا بھارت کی جانب سے چناب میں پانی کی اچانک کمی پر اظہار تشویش
اشاعت کی تاریخ: 5th, May 2025 GMT
چیئرمین انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) کی زیر صدارت ارسا ایڈوائزری کمیٹی کے اجلاس میں بھارت کی جانب سے دریائے چناب میں پانی کی اچانک کمی پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
ارسا اعلامیہ کے مطابق خریف سیزن سے پہلے 21 فیصد پانی کی مجموعی قلت متوقع ہے، دریائے چناب میں قلت جاری رہی تو اسکا تخمینہ دوبارہ لگایا جائے گا۔ خریف سیزن کے بعد 7 فیصد پانی کی کمی متوقع ہے۔
اعلامیہ کے مطابق بھارت کی جانب سے پانی کی کٹوتی کے بعد بحران سے نمٹنے کیلئے ذخائر کا مشترکہ استعمال ہوگا۔ پانی کی منصفانہ تقسیم کیلئے صوبوں میں ہم آہنگی سے فیصلے کیے گئے۔
ارسا کے مطابق ہیڈ مرالہ پر دریائے چناب کے بہاؤ میں اچانک کمی کے بعد بھارتی رویہ زیر غور ہے، پانی کی صورتحال کا روزانہ کی بنیاد پر جائزہ لیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے کوٹری ڈاؤن اسٹریم میں پانی کا اخراج نہ ہونے سے لاکھوں ایکڑ زمین سمندر برد خیبر پختونخوا کے 12 اضلاع میں زیر زمین پانی کی سطح میں تیزی سے کمیارسا ترجمان کے مطابق خریف سیزن میں پنجاب کو 3 کروڑ 13 لاکھ ایکڑ فٹ پانی فراہمی کا تخمینہ ہے، خریف سیزن میں سندھ کو 2 کروڑ 89 لاکھ ایکڑ فٹ پانی دستیابی کا تخمینہ ہے۔
ترجمان کے مطابق خریف سیزن میں بلوچستان کو 29 لاکھ ایکڑ فٹ پانی فراہمی کا تخمینہ ہے، خریف سیزن میں خیبر پختونخوا کو 8 لاکھ ایکڑ فٹ پانی فراہمی کا تخمینہ ہے۔
ارسا ترجمان کے مطابق پانی کی قلت پنجاب اور سندھ کے درمیان برابر تقسیم ہوگی، ارسا ایڈوائزری کمیٹی نے پانی دستیابی اور فراہمی کے تخمینوں کی منظوری دے دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: لاکھ ایکڑ فٹ پانی خریف سیزن میں کا تخمینہ ہے کے مطابق پانی کی
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔