پہلگام فالس فلیگ: بھارت نے بغیر کسی جنگ کے پاکستان سے شکست تسلیم کر لی
اشاعت کی تاریخ: 6th, May 2025 GMT
پہلگام فالس فلیگ: بھارت نے بغیر کسی جنگ کے پاکستان سے شکست تسلیم کر لی WhatsAppFacebookTwitter 0 6 May, 2025 سب نیوز
پہلگام حملے کو بنیاد بنا کر پاکستان پر الزامات لگانے کی بھارتی کوششیں عالمی سطح پر ناکام ہو گئیں، اقوام متحدہ کے حالیہ اجلاس میں پاکستان نے بھرپور انداز میں مؤقف پیش کرتے ہوئے بھارت کے الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں تمام پانچ ویٹو پاور ممالک نے پاکستان کا ساتھ دیا، جس پر بھارت میں بھی مودی حکومت پر شدید تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔
بھارتی تجزیہ کاروں نے اپنی ویڈیوز اور بیانات میں مودی سرکار کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ہے کہ آج پوری دنیا پاکستان کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہے، اور بھارت سفارتی محاذ پر تنہا ہو چکا ہے۔ تجزیہ کار نے کہا کہ فرانس، امریکہ، برطانیہ، روس اور چین، جنہیں بھارت اپنے قریبی اتحادی سمجھتا تھا، سبھی نے سلامتی کونسل میں پاکستان کی حمایت کی اور بھارت کا مؤقف مسترد کر دیا۔
تجزیہ کار کے مطابق وہ فرانس جس سے ہم رافیل خریدتے ہیں، وہ امریکہ جس سے ہم نے اربوں روپے کے ہتھیار خریدے، یہاں تک کہ روس اور چین بھی، سب پاکستان کے ساتھ کھڑے نظر آئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کے اجلاس میں جب پاکستان نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کا نام نہ لیا جائے تو کسی بھی ویٹو پاور ملک نے مخالفت کی ہمت نہ کی۔
پاکستان نے پہلگام حملے کو ایک فالس فلیگ آپریشن قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ بھارت کی طرف سے پاکستان کو بدنام کرنے کی سازش کا حصہ ہے۔ پاکستانی نمائندے نے واضح طور پر کہا کہ بھارت نے آج تک اس حملے سے متعلق کوئی ثبوت پاکستان کو فراہم نہیں کیا۔
بھارتی تجزیہ کار نے مودی سرکار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی پالیسی نہ جنگ کی ہے نہ امن کی، جبکہ عوام ہر گزرتے دن کے ساتھ سفارتی طور پر پس رہی ہے۔ جنگ کی صورت میں پسے گی تو بھارتی عوام، اور ہمیں اپنی لاشیں خود ہی اٹھانی پڑیں گی.
ادھر پاکستان کی جانب سے عالمی سطح پر مؤثر سفارت کاری اور سلامتی کونسل میں واضح مؤقف کو ملک کی بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربھارت کا پہلگام فالز فلیگ میں ناکامی کے بعد بلوچستان میں دہشتگردی کا منصوبہ بے نقاب پہلگام واقعہ پر بھارتی الزامات مسترد، دنیا خطے میں امن کیلئے کردار ادا کرے: پاکستان آرمی چیف جنرل سیدعاصم منیرسے ایرانی وزیرخارجہ کی ملاقات ، باہمی تعاون کومزیدفروغ دینے کے عزم کااعادہ بھارت نے دریائے چناب میں اچانک پانی چھوڑ دیا، رات گئے سطح بلند ہونے کا خدشہ خیبر پختونخوا ، سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں8خوارج ہلاک ، ایک جوان شہید سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوتیرس نے پاکستان اور بھارت کو امن کیلئے ثالثی کی پیش کش کر دی مولانا فضل الرحمان نے پی ٹی آئی کے ساتھ اتحاد کا امکان مسترد کردیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: بھارت نے
پڑھیں:
ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
امریکا آج سے پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات(tarrif) نافذ کر رہا ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔
نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا، یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت آج ختم ہو رہی ہے۔
امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے، ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔
مزیدپڑھیں:میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا
امریکا کے حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔
آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔
کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔
کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔
تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔
ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔