6 گھنٹے کی سرجری کے بعد بھی آپریشن کی ضرورت، بھارتی گلوکار خطرناک حادثے کا شکار
اشاعت کی تاریخ: 6th, May 2025 GMT
بھارتی گلوکار پون دیپ راجن کی صحت سے متعلق تازہ ترین اطلاعات سامنے آگئیں۔
انڈین آئیڈل 12 کا ٹائٹل اپنے نام کر کے مشہور ہونے والے بھارتی گلوکار پون دیپ راجن ایک افسوسناک حادثے کا شکار ہو گئے، جس کے بعد وہ شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیے گئے۔
5 مئی کی صبح مرادآباد (یوپی) کے قریب دہلی جاتے ہوئے ان کی گاڑی ایک دوسرے گاڑی سے ٹکرا گئی۔ حادثے میں پون دیپ کے شدید زخمی ہونے کی خبر سامنے آئی، بتایا گیا کہ ان کے جسم کی کئی ہڈیاں ٹوٹ چکی ہیں۔
گلوکار کی ٹیم نے ان کی صحت سے متعلق ایک بیان انسٹاگرام پر جاری کیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ابتدائی طبی امداد کے بعد انہیں دہلی-این سی آر کے ایک بہتر اسپتال میں منتقل کیا گیا ہے۔
بیان میں بتایا گیا کہ گزشتہ روز پون دیپ کی 6 گھنٹے طویل سرجری کی گئی، جس میں کچھ بڑے فریکچرز کا علاج کیا گیا۔ وہ اس وقت آئی سی یو میں زیرِ نگرانی ہیں، اور آئندہ 3 سے 4 دنوں میں مزید آپریشن کیا جائے گا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پون دیپ اس وقت اپنے دوست اجے مہرا اور ڈرائیور راہول سنگھ کے ساتھ سفر کر رہے تھے، جب ڈرائیور کے آنکھ لگنے کے باعث گاڑی ایک ٹرک سے جا ٹکرائی۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔