بھارتی حملہ، محکمہ داخلہ میں ہنگامی اجلاس، ’’وار بُک‘‘ کے تناظر میں اہم فیصلے
اشاعت کی تاریخ: 7th, May 2025 GMT
چیئرمین کابینہ کمیٹی برائے امن و امان خواجہ سلمان رفیق نے محکمہ داخلہ کے کنٹرول روم کا دورہ کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری داخلہ پنجاب نورالامین مینگل نے سکیورٹی صورتحال پر بریفنگ دی۔ نورالامین مینگل نے بتایا کہ تمام قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے نمائندگان ڈیوٹی پر تعینات کر دیئے گئے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان پر بھارت کے بزدلانہ حملے کے بعد محکمہ داخلہ پنجاب میں سکیورٹی کے حوالے سے ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا، جس میں ’’وار بک‘‘ کے تناظر میں اہم فیصلے کئے گئے۔ سیکرٹری داخلہ پنجاب نورالامین مینگل نے اجلاس کی صدارت کی۔ صوبہ بھر میں اہم تنصیبات کو محفوظ بنانے کیلئے سکیورٹی اداروں کو متحرک کردیا گیا ہے۔ صوبہ بھر کے ہسپتالوں میں ہنگامی حالت نافذ کردی گئی ہے جبکہ تمام قانون نافذ کرنیوالے اداروں اور طبی عملے کو ڈیوٹی پر رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ شہری دفاع کیلئے سول ڈیفنس کے تمام وسائل کو فیلڈ میں متحرک کر دیا گیا ہے۔ پنجاب بھر میں تمام تعلیمی ادارے آج 7 مئی کو بند رہیں گے، آج 7 مئی کو شیڈول کیے گئے تمام امتحانات بھی ملتوی کر دیئے گئے ہیں۔ محکمہ داخلہ میں انٹرنل سکیورٹی کا مرکزی کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے۔
صوبہ بھر میں ہنگامی صورتحال کے اعلان کیلئے سائرن اور وارننگ سسٹم ایکٹیویٹ کیا گیا ہے جبکہ شہری دفاع کیلئے شیلٹرز کے تعین اور انہیں فنکشنل کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔ سیکرٹری داخلہ نے ہدایت کی کہ ہنگامی صورتحال میں ہسپتالوں اور مواصلاتی لائنوں کو مکمل طور پر فعال رکھا جائے۔ ادھر چیئرمین کابینہ کمیٹی برائے امن و امان خواجہ سلمان رفیق نے محکمہ داخلہ کے کنٹرول روم کا دورہ کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری داخلہ پنجاب نورالامین مینگل نے سکیورٹی صورتحال پر بریفنگ دی۔ نورالامین مینگل نے بتایا کہ تمام قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے نمائندگان ڈیوٹی پر تعینات کر دیئے گئے ہیں، جبکہ صوبہ بھر کے ڈپٹی کمشنرز کو اپنے کنٹرول روم قائم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ پنجاب بھر کے کنٹرول رومز کو محکمہ داخلہ کے مرکزی کنٹرول روم سے منسلک کیا جائیگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نورالامین مینگل نے سیکرٹری داخلہ داخلہ پنجاب محکمہ داخلہ کنٹرول روم گیا ہے گئی ہے
پڑھیں:
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ جمعہ سے پاکستان، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات (ٹیرف) نافذ کر رہی ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔
نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا۔ یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت جمعہ کو ختم ہو رہی ہے۔
امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے۔ ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے ٹرمپ ٹیرف: عالمی مارکیٹ میں کس ملک کو کتنا نقصان ہوا؟
امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے (USMCA) کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے۔ ان کے بقول اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔
پاکستان سمیت کن ممالک پر 10 فیصد ٹیرف؟حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔
عالمی ردعملآسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔
کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔
کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔
قانونی ماہرین کی رائےتجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔
یہ بھی پڑھیے ٹرمپ ٹیرف اسٹاک مارکیٹ لے بیٹھا، کملا ہیرس کی پیشگوئی سچ ثابت
ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کی اس وسیع تجارتی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد امریکی صنعت کو تحفظ فراہم کرنا، سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے لیے دباؤ بڑھانا اور درآمدی تجارت پر سخت نگرانی برقرار رکھنا ہے، تاہم ناقدین خبردار کر رہے ہیں کہ اس سے عالمی تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ اور امریکی صارفین کے لیے درآمدی اشیا مہنگی ہونے کا خدشہ بھی بڑھ سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ٹرمپ ٹیرف