بھارت کا نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پروجیکٹ پر بھی حملہ، ڈی جی آئی ایس پی آر کی تصدیق
اشاعت کی تاریخ: 7th, May 2025 GMT
بھارت نے اپنی جارحانہ روش کو ایک بار پھر ثابت کرتے ہوئے پاکستان کے آبی ذخائر کو نشانہ بنایا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے تصدیق کی ہے کہ گزشتہ رات بھارت نے نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پروجیکٹ پر بھی حملہ تھا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بھارتی فوج نے گزشتہ شب دو بجے کے قریب آزاد کشمیر میں واقع نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پروجیکٹ پر شدید گولہ باری کی، جو بین الاقوامی قوانین اور جنگی ضابطوں کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت نے نیلم دریا پر قائم نوسیری ڈیم کے انٹیک اسٹرکچر کو نشانہ بنایا۔ اس حملے میں ڈی سینڈرز یونٹ کے انٹیک گیٹس کو شدید نقصان پہنچا، جب کہ ہائیڈرولک سسٹم کے ایک اہم پروٹیکشن یونٹ پر بھی گولہ باری کی گئی۔ اس کے علاوہ علاقے میں موجود ایک ایمبولینس کو بھی نقصان پہنچا، جو ہنگامی طبی سہولیات کے لیے استعمال ہو رہی تھی۔ سیکیورٹی حکام کے مطابق بھارت کی جانب سے آبی ذخائر جیسے حساس اور سویلین نوعیت کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانا نہ صرف غیر انسانی فعل ہے بلکہ جنیوا کنونشن سمیت اقوام متحدہ کے چارٹر کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔ عالمی قوانین میں ایسے تنصیبات کو جنگ میں بھی تحفظ حاصل ہوتا ہے، مگر بھارت نے ایک بار پھر دنیا کو دکھا دیا کہ وہ کسی اصول و ضابطے کو خاطر میں نہیں لاتا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: بھارت نے
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔