بھارتی حملے میں شہید ہونیوالی مریدکے کی مسجد میں نمازیوں کی بڑی تعداد جمع
اشاعت کی تاریخ: 7th, May 2025 GMT
بھارت کی جانب سے بزدلانہ کارروائی میں شہید کی جانے والی مریدکے کی مسجد میں نمازیوں کی بڑی تعداد نماز فجر کی ادائیگی کے لیے جمع ہوئی۔بھارتی فوج نے رات کی تاریکی میں بزدلانہ حملہ کرتے ہوئے آزاد کشمیر کے علاقوں کوٹلی، مظفر آباد اور باغ کے علاوہ مریدکے اور احمد پور شرقیہ میں شہری آبادی کو نشانہ بنایا جس میں 2 مساجد بھی شہید ہوئیں۔بھارت کے حملوں کے نتیجے میں 2 بچوں سمیت 26 پاکستانی شہید اور 46 افراد زخمی ہوئے دوسری جانب پاک فوج نے بھارتی بزدلانہ کارروائیوں کا بھرپور جواب دیتے ہوئے بھارتی فوج کے 3 رافیل، ایک سکوئی، ایک مگ 29 اور دو ڈرون تباہ کر دیے جبکہ بھارتی فوج کا بریگیڈ ہیڈ کوارٹر بھی تباہ کر دیا گیا۔
پاک فوج کے بھرپور اور تابڑ توڑ حملے کے بعد بھارت نے لائن آف کنٹرول کے مختلف مقامات پر سفید جھنڈے لہرا کر اپنی شکست تسلیم کی۔مریدکے کی مسجد ام القریٰ بھی بھارتی حملوں کا نشانہ بنی جس کا کچھ حصہ شہید بھی ہوا، حملے کے فوری بعد علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد گھروں سے باہر نکل آئی اور نمازیوں کی بڑی تعداد نے مسجد میں نماز فجر ادا کی۔اس حوالے سے ویڈیوز بھی سوشل میڈیا وائرل ہو رہی ہیں جس میں مسجد کے باہر نمازیوں کی بڑی تعداد کو دیکھا جاسکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: نمازیوں کی بڑی تعداد
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔