بہاولپور میں بھارت نے میزائل حملے میں مسجد کو نشانہ بنا یا، بزدلانہ کارووائی کی تفصیلات سامنے آگئیں
اشاعت کی تاریخ: 7th, May 2025 GMT
بہاولپور(ڈیلی پاکستان آن لائن)بھارت نے پاکستان پر حملہ کرتے ہوئے 3 شہروں پر میزائل فائر کیے ہیں۔ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز( ڈی جی آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے تصدیق کی ہے کہ بھارت نے پاکستان پر 3 جگہوں پر میزائل داغے ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ بھارت کی جانب سے آزاد کشمیر میں کوٹلی، مظفر آباد اور بہاولپور میں حملہ کیا گیا۔ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق بھارت نے احمد پور شرقیہ بہاولپور میں مسجد سبحان اللہ پر حملہ کیا، بھارتی بزدلانہ حملے میں مسجد میں سویلینز کو نشانہ بنایا۔
بھارت نے پاکستان پر حملہ کردیا، پاک فوج نے بھی تصدیق کردی
سیکیورٹی ذرائع نے بتا یا ہے کہ بھارت کے ایک بزدلانہ حملے میں مسجد سبحان بہاولپور کو بھی ٹارگٹ کیا گیا، بزدلانہ حملے میں اب تک ایک معصوم بچا شہید جبکہ ایک عورت اور ایک مرد شدید زخمی ہی،بھارت نے رات کے اندھرے میں معصوم پاکستانیوں کو بزدلانہ حملے میں ٹارگٹ کیا، پاکستان کی طرف سے جوابی کاروائی شروع ہو چکی ہے۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: بزدلانہ حملے میں بھارت نے
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔