پوپ فرانسس کی گاڑی غزہ کے بچوں کے لیے وقف
اشاعت کی تاریخ: 7th, May 2025 GMT
میری گاڑی غزہ کے بچوں کے علاج میں استعمال کی جائے ، وصیت
مسیحوں کے سابق روحانی پیشوا آنجہانی پوپ فرانسس کی آخری وصیت نے ایک انسانی ہمدردی پر مبنی پیغام دیا جو خاص طور پر غزہ کے بچوں سے متعلق تھا۔
عرب ٹی وی کے مطابق پوپ فرانسس نے اپنی وصیت میں کہا کہ "پوپ موبائل کے نام سے معروف وہ گاڑی جو انہوں نے 2014 میں بیت اللحم کے دورے کے دوران استعمال کی تھی اسے غزہ کے بچوں کے علاج کے لیے ایک موبائل میڈیکل کلینک میں تبدیل کیا جائے۔
اس منصوبے کے تحت گاڑی کو اس انداز میں دوبارہ تیار کیا جائے گا کہ وہ ایک چلتا پھرتا میڈیکل سینٹر بن جائے جہاں بچوں کے طبی معائنے ، علاج، ویکسی نیشن، مرہم پٹی اور فوری ٹیسٹ کی سہولت موجود ہو گی۔یہ گاڑی خاص طور پر ان علاقوں میں بھیجی جائے گی جہاں صحت کی سہولتیں ناپید ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: غزہ کے بچوں بچوں کے
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک