بھارت کے ساتھ حساب برابر کرنے کے لیے ہم خود بھی کوئی ابتدا کر سکتے ہیں، وزیر دفاع خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 7th, May 2025 GMT
وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بھارت نے آج دن کے وقت بھی کچھ شہروں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے، میرا خیال ہے پاکستان کو بھارت کا ادھار چکا دینا چاہیے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ بھارت کے ساتھ حساب برابر کرنے کے لیے ہم خود بھی کوئی ابتدا کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں بھارت کو فاش غلطی کا خمیازہ ضرور بھگتنا ہوگا، وزیراعظم محمد شہباز شریف کا قوم سے خطاب
خواجہ آصف نے کہاکہ بھارت نے ہمارے شہریوں پر حملہ کیا، اب اگر ہم کوئی جواب دیتے ہیں تو ہمارے پاس اس کا معقول جواز ہے، لیکن ہم عام شہریوں کو نشانہ نہیں بنائیں گے۔
وزیر دفاع نے کہاکہ بھارت کی سول آبادی کو ہم بھی نشانہ بنا سکتے تھے، لیکن ہم نے صرف فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔
انہوں نے کہاکہ بھارت کا خطے میں موجود تمام ہمسایوں سے جھگڑا ہی رہتا ہے۔
وزیر دفاع نے یہ بھی کہا کہ بھارت کا کبھی نیپال، کبھی سری لنکا تو کبھی بنگلا دیش سے جھگڑا رہتا ہے، نئی دہلی کا خطے میں موجود تمام ہمسائیوں سے جھگڑا رہتا ہے۔
واضح رہے کہ پہلگام واقعہ کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی کشیدگی کی وجہ سے دونوں ملک آمنے سامنے ہیں، گزشتہ رات بھارت نے پاکستان پر میزائل حملے کیے جس کے نتیجے میں اب تک 31 شہریوں کی شہادت ہو چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں امریکی صدر نے پاکستان بھارت کشیدگی ختم کرنے کے لیے مدد کی پیشکش کردی
پاکستان نے بھارتی کارروائی کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے 5 جنگی جہاز مار گرائے جبکہ بریگیڈ ہیڈکوارٹر تباہ کرنے کے ساتھ ساتھ ایل او سی پر کئی پوسٹیں بھی تباہ کردی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews افواج پاکستان پاک بھارت کشیدگی پاکستان بھارت جنگ جنگ جنگی جہاز خواجہ آصف وزیر دفاع وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: افواج پاکستان پاک بھارت کشیدگی پاکستان بھارت جنگ جنگی جہاز خواجہ ا صف وزیر دفاع وی نیوز نے کہاکہ بھارت وزیر دفاع کرنے کے کے لیے
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔