پاکستان کے تین بڑے ایئر پورٹس بند کر دیئے گئے
اشاعت کی تاریخ: 8th, May 2025 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )ملک کے 3 بڑے ایئرپورٹس عارضی طور پر بند کردیے گئے۔
ایئرپورٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری نوٹم میں کہا گیا ہے کہ کراچی، لاہور اور سیالکوٹ ایئرپورٹس پر فلائٹ آپریشن معطل رہے گا۔
ایئرپورٹ اتھارٹی کے مطابق آپریشنل وجوہات کی بنا پر تینوں شہروں کی ایئرسپیس بند کی گئیں، مسافرتازہ ترین صورتحال کےلیے متعلقہ ایئرلائنز سے رابطے کریں۔
اسلام آباد ایئرپورٹ پر آمد و روانگی ایئرٹریفک کنٹرول کی پیشگی منظوری سے مشروط کردی گئی، پروازوں کی روانگی سے قبل اسلام آباد ایئر ٹریفک کنٹرول سے رابطہ ضروری ہے۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان اعلیٰ سطح رابطے کا انکشاف، کیا بات چیت ہوئی ؟ جانئے
لاہور کے لیے آنے والی پروازوں کا رخ اسلام آباد ایئرپورٹ کی جانب موڑ دیا گیا، مسقط سے لاہور آنے پرواز پی کے 230 اسلام آباد ائیرپورٹ پر اتار لی گئی۔ نجی ائیرلائن کی ریاض سے لاہور آنے والی پرواز بھی اسلام آباد اتار لی گئی۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: اسلام آباد
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔