پاکستانی بندرگاہوں پر ہائی الرٹ، سکیورٹی بڑھا دی گئی
اشاعت کی تاریخ: 8th, May 2025 GMT
ویب ڈیسک: پاک بھارت کشیدگی کے پیش نظر پاکستانی بندرگاہوں پر ہائی الرٹ جاری کردیا گیا ہے، تینوں بندرگاہوں پر سکیورٹی بڑھادی گئی ۔
پاکستان کی تینوں بندرگاہوں پرہائی الرٹ جاری کر دیا گیا، گوادر پورٹ، پورٹ قاسم اور کراچی پورٹ پر سیکیورٹی بڑھا دی گئی اور غیر ضروری نقل و حرکت پر پابندی عائد کردی گئی۔
ذرائع کے مطابق ماہی گیروں کو بھی محتاط رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے چھوٹی کشتیوں کے سمندر میں جانے پر پابندی لگادی۔ موجودہ حالات کے پیش نظر پاکستانی سمندری حدود میں ماہی گیری پر بھی پابندی عائد کرتے ہوئے ماہی گیری کے لیے سمندر میں موجود فشنگ ٹرالرز اور کشتیوں کو واپس بلا لیا گیا ہے۔ ہائی الرٹ تک سمندر میں کوئی غیر ضروری بوٹس اور ماہی گیری کشتیاں فشنگ بوتس پر پابندی ہوگی۔
پنجاب بھر کے سکولوں میں تعطیلات کا اعلان
ذرائع کا کہنا ہے کہ گوادر پورٹ، پورٹ قاسم اور کراچی پورٹ پر شپنگ آپریشن معمول کے مطابق جاری ہے۔
واضح رہے کہ 22 اپریل 2025 کو پہلگام میں سیاحوں کی ہلاکت کے بعد بھارت نے 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب، اندھیرے میں پاکستان کے شہری علاقوں پر حملہ کرکے طبل جنگ بجادیا تھا۔
بھارتی حملے کے بعد پاکستان کی مسلح افواج نے بزدلانہ حملے کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے بھارتی فضائیہ کے 3 رافیل طیاروں سمیت 5 جنگی طیارے مارے گرائے، جب کہ ایک بریگیڈ ہیڈکوارٹر سمیت متعدد فوجی چیک پوسٹوں کو تباہ کردیا تھا، بھارتی فوج نے ایل اوسی کے چورا کمپلیکس پر سفید جھنڈ الہرا کر شکست تسلیم کرلی تھی۔
علی امین گنڈا پور کا اڈیالہ جیل کی جانب پیدل مارچ، پولیس سے تلخ کلامی
اس کے علاوہ قومی سلامتی کمیٹی نے پاک فوج کو جوابی کارروائی کے لیے اجازت اور مکمل اختیارات دے دیے ہیں، پاکستان نے بھارت کے حملے کا بھرپور جواب دینے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: بندرگاہوں پر
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔