Express News:
2026-07-24@02:47:44 GMT

کون جیتا کون ہارا؟

اشاعت کی تاریخ: 9th, May 2025 GMT

پاکستان اور بھارت کے درمیان6 اور 7مئی کے درمیانی شب کیا ہوا۔ کون جیتا کون ہارا۔ بھارت نے کتنے حملے کیے۔جواب میں پاکستان نے کیا جواب دیا۔ آج سب اس پر بات کریں۔ اسی بحث میں لوگ کون جیتا کون ہارا کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ دونوں ممالک میں جیت کا جشن ہے۔

بھارت اپنے طو ر پر جیت کا جشن منا رہا ہے۔ جب کہ پاکستان اپنے طو رپر جیت کا جشن منا رہا ہے۔ دنیا بھی تقسیم ہے۔ کچھ ممالک کے خیال میں پاکستان کی برتری رہی جب کہ کچھ کی رائے میں بھارت کی برتری رہی۔ دنیا بھی کسی ایک ملک کو برتری کا سرٹیفکیٹ دینے سے قاصر ہے۔ اس کے بعد بھارت کی جانب سے پاکستان کے مختلف شہروں میں ڈرون حملے کیے گئے ہیں۔ یہ ڈرون گرائے گئے ہیں۔ لیکن یہ ڈرون جاسوسی اور حملے دونوں کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ ان ڈرون نے معاملہ کو دوبارہ کشیدہ کر دیا ہے۔

 پہلی رات بھارت نے پاکستان میں چھ مقامات میں 24میزائل فائر کیے ہیں۔ جن میں پاکستان کا جانی نقصان بھی ہوا ہے۔ سب سے اہم بھارت نے بہاولپور اور مریدکے میں میزائل فائر کیے۔ بہر حال پاکستان کے عسکری ذرائع کے مطابق بھارت نے مریدکے میں چار میزائل مارے۔اسی طرح بہاولپور میں بھی چار میزائل مارے گئے ہیں۔ اسی کے ساتھ شکرگڑھ میں دو ، کوٹلی میں پانچ، مظفر گڑھ میں سات، سیالکوٹ میں دو میزائل فائر کیے گئے ہیں۔ ان تمام مقامات میں اکثر جگہ پر مساجد کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان مساجد کے ساتھ مدارس تھے۔ اسی لیے ہمیں بچوں اور عام شہریوں کی شہادت نظر آئی ہے۔ سویلین شہادتیں اسی لیے نظر آئی ہیں۔

اب یہ بھی دیکھنے کی ضرورت ہے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے ٹارگٹس کیا تھے۔ پہلگام کے واقعہ کے بعد انھوں نے کہا کہ وہ پاکستان میں پہلگام کے واقعہ کے ذمے داران اور ان کے مددگاروں اور سہولت کاروں کو نشانہ بنائیں گے۔ اب دیکھیں کیا بھارت نے جو حملے کیے ہیں ا ن میں مودی کے ٹارگٹ شامل ہیں۔ کیا بھارت کسی بھی ایک ایسے دہشت گرد کو نشانہ بنانے میں کامیاب ہوا ہے جن کو وہ پہلگام واقعہ کا ذمے دار قرار دیتا ہے۔

اگر دیکھا جائے تو بھارت حافظ سعید اور مولانا مسعود اظہر کو مریدکے اور بہاولپور میں نشانہ بنانا چاہتا تھا۔ لیکن وہ دونوں وہاں نہیں تھے۔اگر بھارت ان دونوں کو ٹارگٹ کرنا چاہتا تھا تو پھر یہ اسٹرائیکس ناکام رہی ہیں۔ اسی طرح مظفر آباد ،شکرگڑھ ، کوٹلی میں بھی بھارت کسی ایسی تنظیم کے عہدیداروں کو نشانہ نہیں بنا سکا۔ بھارت پہلگام مواقعہ کی ذمے داریResistance front پر ڈالتا ہے۔ انھوں نے اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں بھی اسی تنظیم کانام ڈلوانے کی کوشش کی۔ لیکن وہناکام رہے کیونکہ وہاں یہ سوال ہوا کہ بھارت کے پاس اس بات کے کیا ثبوت ہیں کہ اس تنظیم نے پہلگام کا واقعہ کیا ہے۔

بہر حال اگر بھارت اس تنظیم کو پہلگام کا ذمے دار سمجھتا بھی ہے۔ تو کیا بھارت نے اس تنظیم کو نشانہ بنایا ہے۔ نہیں ۔ یہ تو بھارت میں دعویٰ نہیں کر رہا ہے کہ اس نے اس تنظیم کو کہیں بھی نشانہ بنایا ہے۔ جب بھارت ان کے مطابق جو دہشت گرد ہیں ان میں کسی بھی کو بھی نشانہ بنا سکا ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو بھارت کی تمام اسٹرائیکس کو عالمی تناظر میں کامیاب نہیں دیکھا جائے گا۔ بھارت کسی بھی ایسے ٹارگٹ کو نہیں نشانہ نہیں بنا سکا جو اس کے ہدف ہو سکتے ہیں۔ بھارت نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ بھارت نے پاکستان کی کسی بھی دفاعی تنصیب، ہیڈ کواٹر اور اہم اسٹریٹجک تنصیبات کو نشانہ نہیں بنایا۔ بھارت یہ اعلان کر کے اصل میں کشیدگی کو کم کرنے اور تصادم کو کم کرنے میں کوشش کر رہا ہے۔

دوسری طرف پاکستان نے جوابی کاروائی میں بھارت کے پانچ جنگی جہاز تباہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ بھارت نے پاکستان کے ایسے کسی دعویٰ کی تصدیق نہیں کی ہے۔ بھارت نے نہ تصدیق کی ہے اور نہ ہی تردید کی ہے۔ لیکن بھارت میں بھارتی جنگی طیاروں کے گرنے کی تصدیق ہوئی ہے۔ وہاں ان کا ملبہ کم از کم چار جگہوں پر ملا ہے۔ لیکن بھارت کی حکومت اور دفاعی ترجمان خاموش ہیں۔ یہ خاموشی بھی سب بیان کر رہی ہے۔ کہ پاکستان کے دعوؤں میں صداقت ہے۔ اسی کے ساتھ پاکستان نے بھارت کا ایک بریگیڈ ہیڈ کواٹر اور چھ چوکیوں کو بھی تبا ہ کیا ہے۔

اگر دیکھا جائے تو پاکستان کا جواب بھارت کے حملوں سے زیادہ شدید تھا۔ اگر یہی اسکور ہے تو پھر عالمی تجزیہ نگاروں کی رائے میں پاکستان کو برتری رہی ہے۔ اگر پاکستان نے پانچ جنگی جہاز تباہ کیے ہیں جن میں تین رافیل جنگی جہاز شامل ہیں۔ اس پر عالمی سطح کی بہت توجہ ہے۔ دنیا اس کی تصدیق چاہتی ہے۔ بھارت تصدیق اور تردید نہیں کر رہا ہے لیکن لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوجی چوکیوں کی تباہی کی تصدیق کر رہا ہے۔

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی خاموشی کو بھی اسی تناظر میں لیا جا رہا ہے کہ پاکستان نے جنگی جہاز تباہ کیے ہیں۔ پاکستان دوسری طرف سب کو بتا رہا ہے۔ پاکستان کے وزیر اعظم نے بھی بھارتی جنگی جہاز تباہ کرنے کا اپنی تقریر میں ذکر کیا ہے۔ پاک فوج کے ترجمان نے بھی کہا ہے۔ لیکن بھارت میں خاموشی ہے۔ بھارت کے فوجی ترجمانوں نے جو پریس بریفنگ کی ہے اس میں بھی صحافیوں کے سوال نہیں لیے گئے۔ بس ایک بیان پڑھا گیا۔ کسی سوال کا جواب نہیں دیا گیا۔ بھارت کی وزارت اطلاعات نے  پاکستان کے خلاف اس آپریشن سے پہلے بھارتی میڈیا کو ایک ہدائت نامہ جاری کیا تھا کہ بھارتی میڈیا صرف وہی اطلاعات میڈیا میں دے سکتا ہے جو بھارتی حکومت فراہم کرے، کسی اور طرف سے ملنے والی معلومات کو میڈیا میں نہ دیا جائے۔ اسی لیے بھارتی بڑے میڈیا ہاؤس ہندو نے پہلے بھارتی جنگی جہازوں کی تباہی کی خبر دی۔ لیکن پھر اس کو ڈلیٹ کر دیا۔ بھارتی ہدائت نامہ یقیناً کچھ حقائق کو میڈیا سے دور رکھنے کے لیے دیا گیا ہے۔ اس سے پہلے بھارت نے پاکستانی میڈیا پر بھی پابندی لگائی تھی۔ ایسے مواقع پر میڈیا پر قدغن یقیناً بھارت کی کمزوری ظاہر کرتا ہے۔

کیا پاکستان اوربھارت کے درمیان تناؤ ختم ہوگیا ہے۔ کیا اب دونوں طرف سے ایک دوسرے کے خلاف کوئی حملہ نہیں کیا جائے گا۔ ابھی تناؤ ہے۔ کیا جنگی ماحول ختم ہوگیا ہے۔ ایسا نظر نہیں آرہا۔ بھارتی حملوں کے بعد پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی نے پاک فوج کو جوابی کارروائی کرنے کا اختیار دے دیا ہے۔ لیکن پاکستانی حکومتی عہدیداروں کی جانب سے ایسے بیانات بھی سامنے آئے ہیں جن میں کہا گیا کہ اگر بھارت مزید جارحیت نہیں کرے گا تو پاکستان بھی مزید کوئی کارروائی نہیں کرے گا۔لیکن بھارتی ڈرون گرانے کے واقعات ہوئے ہیں، لاہور اور گوجرانوالہ میں ڈرون گرائے گئے ہیں۔

تاہم کشیدگی برقرار ہے، کسی بھی وقت کچھ ہو سکتا ہے، یہ بھی ممکن ہے کہ جب میں نے یہ تحریر لکھی ہے اور جب تک آپ پڑھ رہے ہوں حالات بدل جائیں، نئی صورتحال پیدا ہو جائے ۔ لیکن ایک جنگی ماحول ہے۔ دونوں ملک جنگ کے قریب بھی ہیں اور جنگ سے بچنا بھی چاہتے ہیں۔مودی کی مجبوریوں کا سب کو اندازہ تھا۔ پاکستان کا موڈ بھی سب کو پتہ تھا۔ اسی لیے پاکستان نے موثر جواب دیا ہے۔ لیکن سوال یہی ہے کہ آگے کیا ہوگا۔ کیا جنگی ماحول برقرار رہے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بھارت نے پاکستان جنگی جہاز تباہ میں پاکستان لیکن بھارت پاکستان نے پاکستان کے دیکھا جائے کر رہا ہے کو نشانہ کہ بھارت بھارت کے بھارت کی کی تصدیق نہیں کر کسی بھی کیے ہیں میں بھی اسی لیے گئے ہیں کیا ہے گیا ہے

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف