نئی دہلی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 اگست 2025ء ) امریکی ٹیرف پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے ردعمل سامنے آیا ہے۔ عالمی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق نئی دہلی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نریندر مودی نے کہا کہ ہمارے لیے ہمارے کسانوں کی فلاح و بہبود سب سے مقدّم ہے، بھارت اپنے کسانوں، ڈیری سیکٹر اور ماہی گیروں کی بہتری پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گا، میں ذاتی طور پر یہ جانتا ہوں کہ مجھے اس کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔

بتایا گیا ہے کہ بھارتی وزیراعظم کی طرف سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اندیا پر 50 فیصد ٹیرف عائد کیے جانے کے صدارتی حکم نامے کے بعد سامنے آیا، مودی نے واضح طور پر امریکہ یا ناکام ہو جانے والے تجارتی مذاکرات کا تذکرہ نہیں کیا تاہم انہوں نے اس تبصرے کے ذریعے بھارت کی پوزیشن واضح کردی ہے کیوں کہ اس معاملے پر بی بی سی کی رپورٹ میں اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کی ٹیم چاہتی ہے کہ بھارت اپنے ڈیری اور زراعت کے شعبوں کو امریکی کاروبار کے لیے کھول دے لیکن انڈیا کے لیے یہ صرف تجارتی مسئلہ نہیں ہے۔

(جاری ہے)

بتایا جارہا ہے کہ بھارت کا زرعی شعبہ سیاسی طور پر حساس، سماجی طور پر پیچیدہ اور اقتصادی طور پر اہم ہے، 40 فیصد سے زیادہ بھارتی زراعت پر انحصار کرتے ہیں، اس صورتحال میں بھاری سبسڈی والی امریکی زرعی مصنوعات کے لیے راستہ کھولنے سے انڈین مارکیٹ میں امریکی مصنوعات کی بھرمار اور چھوٹے کسانوں کیلئے بربادی کا باعث بن سکتی ہے، اس لیے امریکہ سے اس معاملے پر کسی بھی قسم کا معاہدہ نا صرف مالی طور پر بھارت کے لیے لاپرواہی ہوگی بلکہ سیاسی پریشانی بھی پیدا کر سکتی ہے کیوں کہ اس سے پہلے 2020/21ء کی کسان تحریک سے مودی کو کافی سیاسی نقصان ہوا تھا اس تحریک نے حکومت کو متنازعہ زرعی قوانین واپس لینے پر مجبور کیا۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کے لیے

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل