ملک بھر کے لیے بجلی سستی، صارفین کے ساڑھے 52 ارب روپے بچیں گے
اشاعت کی تاریخ: 9th, May 2025 GMT
پاکستان بھر کے لیے بجلی ایک روپے 55 پیسے فی یونٹ سستی کردی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: موسم گرما میں بھاری بلوں سے تنگ عوام کے لیے خوشخبری، بجلی کی قیمت میں بڑی کمی کا فیصلہ
نیپرا نے بجلی سستی کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے۔ جس کے مطابق بجلی رواں مالی سال کی تیسری سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے تحت سستی کی گئی ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق بجلی کی قیمت میں 3 ماہ تک کمی ہوگی۔ کراچی سمیت ملک بھرکے لیے مئی سے جولائی تک فی یونٹ بجلی ایک روپے55 پیسےفی یونٹ سستی کی گئی ہے۔
مئی سے جولائی ہر ماہ فی یونٹ بجلی ایک روپے55 پیسے سستی ہوگی۔ بجلی صارفین کو 52 ارب 60 کروڑ روپے کا فائدہ ہوگا۔
مزید پڑھیے: سولر صارفین سے سپلائی ہونے والی بجلی کی قیمت کم کرکے 10 روپے فی یونٹ مقرر کرنے کا فیصلہ
کراچی کے صارفین کے لیے فروری کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کا نوٹیفکیشن بھی جاری کیا گیا ہے۔
کراچی کے صارفین کے لیے فروری کی فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت فی یونٹ بجلی 3 روپے 64 پیسے سستی کی گئی ہے۔
کراچی کے صارفین کو فروری کی ایڈجسٹمنٹ کا ریلیف مئی کے بلوں میں ملےگا لیکن اس کا اطلاق لائف لائن صارفین پر نہیں ہوگا۔
مزید پڑھیں: وزیراعظم کا بجلی کی قیمتوں میں کمی کا اعلان! کس کو کتنا ریلیف ملا؟
ڈسکوز کے لیے مارچ کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کا نوٹیفکیشن بھی جاری کیا گیا ہے۔
مارچ کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے تحت فی یونٹ بجلی 28 پیسے سستی کی گئی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بجلی سستی بجلی کی قیمت میں کمی نیپرا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بجلی سستی بجلی کی قیمت میں کمی نیپرا سستی کی گئی ہے فی یونٹ بجلی بجلی کی قیمت کی فیول کے لیے
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔