کیا یہ واقعی اوکاڑہ میں گرائے گئے بھارتی ڈرون کی ویڈیو ہے؟ کئی صحافیوں اور سوشل میڈیا صارفین کی طرف سے شیئر ہونیوالی ویڈیو کی حقیقت سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 9th, May 2025 GMT
اوکاڑہ (ویب ڈیسک) بھارت کی طرف سے اسرائیلی ساختہ چھوڑے گئے 77 ڈرونز اب تک پاکستان نے مار گرائے ہیں اور اس سلسلے میں صحافی بھی ویڈیوز شیئر کررہے ہیں، انہی ویڈیوز میں سے ایک ویڈیو کو اس واقعے سے جوڑا جا رہا ہے جس میں اوکاڑہ کی حدود میں ایک ڈرون کو مار گرایا گیا حالانکہ حقیقت میں یہ ڈرون کی نہیں بلکہ سپننگ ٹاپ فائر کریکر کی ویڈیو ہیں جنہیں غیرذمہ دارانہ رویہ اپناتے ہوئے ڈرون واقعے سے جوڑ دیا گیا۔
آئندہ چند دن میں بتائیں گے کہ کس طرح ملک کا دفاع کر سکتے ہیں،خواجہ آصف
تفصیل کے مطابق کئی صحافیوں نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور کئی نشریاتی اداروں نے اپنی ویڈیوز میں اس سپننگ فائر کریکر کی ویڈیو کو بھی جوڑ دیا جس کا ڈرون سے کوئی تعلق ہی نہیں جس میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ فائر کریکر کا رِنگ زمین پر واپس گرنے کے بعد پریشر کی وجہ سے فوری طور پر زمین پر نہیں رکتا اور کچھ دوری پر جا کر پھر گرتا ہے۔
مدارس کا ہر نوجوان فوج کے ساتھ صف اول پر ہوگا، مولانا فضل الرحمان
بانی پی ٹی آئی کی پیرول پر رہائی کی درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر
مذکورہ ویڈیو کی آڈیو کو بھی سنا جائے تو پیچھے جو زبان بولی جارہی ہے ، وہ پاکستان کے کسی علاقے میں نہیں بولی جاسکتی، اس کے علاوہ ویڈیو میں دکھائی دینے والی موٹر سائیکل بھی پاکستان میں نہیں پائی جاتی لیکن کون ان باتوں پر غور کرتا؟عام سوشل میڈیا صارفین تو درکنار ، صحافیوں نے بھی بغیر کسی تحقیق کے مذکورہ ویڈیو شیئر کی ہے ۔
"میں نے ایئرشومیں جے 10 طیارے پردھیان نہیں دیا تھا لیکن حقیقی معرکہ آرائی پر اس کی طاقت کا اندازہ ہوا کہ ۔ ۔ ۔" چینی صحافی نے ویڈیو شیئر کردی
وزارت اقتصادی امور کا ایکس اکاؤنٹ ریکور کرلیاگیا،ترجمان
ایسے صحافیوں کی غیرذمہ دارانہ رپورٹنگ پر سیکیورٹی ذرائع نے تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ سینئر صحافی جن کی بڑی تعداد میں فین فالوونگ ہے، ان سے درخواست ہے کہ چیزیں شیئر کرنےسے پہلے تصدیق کرلیا کریں اور عوام بھی قابل بھروسہ اور سرکاری معلومات پر اعتماد کریں۔
سپننگ فائر کریکرز آتش بازی کے عام سامان کی طرح چھوٹے بڑے ہوسکتے ہیں، ذیل میں دی گئی ویڈیو بھی ایک بڑے سپننگ فائر کریکر کی ہے جسے لانچ کیا جارہاہے لیکن پاکستانی سوشل میڈیا صارفین درمیانے سائز کے فائر کریکر کی اس وقت کی ویڈیو شیئر کررہے ہیں جب وہ واپس زمین پر گر رہا ہے اور اسے ڈرون سے جوڑ دیا گیا جو کہ غلط ہے۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: فائر کریکر کی سوشل میڈیا کی ویڈیو
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔