بجلی کی قیمتوں میں کمی، نوٹی فیکیشن جاری
اشاعت کی تاریخ: 9th, May 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)حکومت نے فیول ایڈجسٹمنٹ اور دیگر میں بجلی کی قیمت میں کمی کردی ہے اور نیشنل الیکٹرک ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا۔نیپرا سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق بجلی کی قیمت میں مجموعی طور پر ایک روپے 83 پیسے فی یونٹ کمی کردی گئی ہے اور یہ کمی ماہانہ اور سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کی گئی۔
نوٹیفکیشن میں بتایا گیا کہ بجلی کی قیمتوں میں 28 پیسے فی یونٹ کمی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ اور سہ ماہی بنیادوں پر ایک روپے 55 پیسے فی یونٹ بجلی سستی کردی گئی اور 28 پیسے فی یونٹ بجلی کی قیمت میں کمی کا اطلاق رواں ماہ کے لیے ہوگا۔نیپرا کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ایک روپے 55 پیسے فی یونٹ کمی کا اطلاق تین ماہ مئی، جون اور جولائی 2025 کے لیے ہوگا۔
پاکستان نے بھارت کو ایشین بیچ ہینڈ بال چیمپئن شپ میں شکست دے دی
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: پیسے فی یونٹ بجلی کی
پڑھیں:
جزوی لاک ڈاون، وزیراعظم نے نئے کاروباری اوقات کی منظوری دیدی
کیبنٹ ڈویژن نے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے مطابق تمام دکانیں، مارکیٹیں اور شاپنگ مالز رات 9 بجے بند کیے جائیں گے، جبکہ شادی ہالز، مارکیاں اور دیگر کمرشل تقریبات کے مقامات رات 10 بجے تک بند کرنا ہوں گے۔ اسی طرح ریسٹورنٹس، ہوٹلز اور سبزی فروشوں کی دکانوں کے لیے رات 11 بجے تک کاروبار جاری رکھنے کی اجازت ہوگی۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعظم نے ملک بھر میں توانائی بچت مہم کے تحت کاروباری مراکز کی بندش کے نئے اوقات کار کی منظوری دے دی۔ کیبنٹ ڈویژن نے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے مطابق تمام دکانیں، مارکیٹیں اور شاپنگ مالز رات 9 بجے بند کیے جائیں گے، جبکہ شادی ہالز، مارکیاں اور دیگر کمرشل تقریبات کے مقامات رات 10 بجے تک بند کرنا ہوں گے۔ اسی طرح ریسٹورنٹس، ہوٹلز اور سبزی فروشوں کی دکانوں کے لیے رات 11 بجے تک کاروبار جاری رکھنے کی اجازت ہوگی، جس کے بعد انہیں بھی بند کرنا ہوگا۔ نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ میڈیکل اسٹورز، آئی ٹی کمپنیاں، تندور، جمز اور فیول اسٹیشنز پر ان اوقات کار کی پابندی لاگو نہیں ہوگی اور وہ حسبِ معمول کام جاری رکھ سکیں گے۔ وفاقی حکومت نے تمام صوبائی حکومتوں اور مقامی انتظامیہ کو ہدایت جاری کی ہے کہ نئے اوقات کار پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ توانائی کے استعمال میں کمی اور بجلی کی بچت کے قومی اہداف حاصل کیے جا سکیں۔