بھارت کی نور خان ایئربیس، مرید بیس اور شورکوٹ ایئربیس پر حملے کی کوشش ناکام
اشاعت کی تاریخ: 10th, May 2025 GMT
لاہور میں بھی بھارتی ڈرون مار گرایا گیا، لاہور کے نواحی علاقے نارنگ منڈی میں بھارتی ڈرون مار گرایا گیا ہے، سیکیورٹی ذرائع کے مطابق لاہور شہر میں کسی ڈرون کی پرواز نہیں ہوئی۔ اسلام ٹائمز۔ سیکیورٹی زرائع کا کہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے نورخان ایئربیس چکلالہ سمیت تین ایئر بیسز پر حملے کی کوشش ناکام بنادی گئی، ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ بھارت پاکستان کے جواب کا انتظار کرے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا بریفنگ میں کہنا ہے کہ نور خان ایئربیس، مرید بیس اور شورکوٹ کو نشانہ بنایا گیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ پاک فضائیہ کے تمام اثاثے محفوظ ہیں، بھارت نے فضا سے زمین پر مار کرنے والے میزائل داغے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ افغانستان پر بھی بھارت نے میزائل داغے ہیں، بھارت پورے خطے کو جنگ کی طرف دھکیل رہا ہے، بھارت پاکستان کے جواب کا انتظار کرے۔ لاہور میں بھی بھارتی ڈرون مار گرایا گیا، لاہور کے نواحی علاقے نارنگ منڈی میں بھارتی ڈرون مار گرایا گیا ہے، سیکیورٹی ذرائع کے مطابق لاہور شہر میں کسی ڈرون کی پرواز نہیں ہوئی، کوئی دھماکہ نہیں ہوا ہے۔ بھارتی ڈرون شیخوپورہ کےسرحدی گاؤں جےسنگھ والا میں مار گرایا گیا، ڈرون گرنے سے دھماکے کے بعد فصلوں کی باقیات کو آگ لگ گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بھارتی ڈرون مار گرایا گیا کہنا ہے کہ ایس پی
پڑھیں:
بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔
میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔
یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔
View this post on Instagramتاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔