حریت ترجمان نے کہا کہ تنازعہ کشمیر کو نظرانداز کرنے کا اب کوئی آپشن نہیں ہے، بی جے پی کی زیرقیادت ہندوتوا بھارتی حکومت نے آزادی پسند کشمیریوں کے خلاف اپنے ظلم و بربریت میں اضافہ کر دیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کل جماعتی حریت کانفرنس نے اپنے ناقابل تنسیخ حق خودارادیت کے مطالبے کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ تنازعہ کشمیر پر بھارت کی ہٹ دھرمی پر مبنی پالیسی نے خطے کو جنگ کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈوکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ بی جے پی کی زیرقیادت ہندوتوا بھارتی حکومت نے آزادی پسند کشمیریوں کے خلاف اپنے ظلم و بربریت میں اضافہ کر دیا ہے اور انہیں اپنے ہی وطن میں اجنبی بنا دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کئی دہائیوں کے بھارتی تسلط اور ہٹ دھرمی نے کشمیر کو ایک جوہری فلیش پوائنٹ میں تبدیل کر دیا ہے اور کوئی بھی غلطی علاقائی تباہی کو جنم دے سکتی ہے۔ بی جے پی کی زیرقیادت بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر میں لوگوں کی آواز دبانے، خطے میں خوف و ہراس پھیلانے، پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر پر حملے کر کے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی مرتکب ہو رہی ہے اور اپنے زرخریدجانبدار گودی میڈیا اور سیکرٹری خارجہ وکرم مصری نئی دلی میں وزارت خارجہ کی پریس بریفنگ کے ذریعے جعلی بیانیے کے ذریعے دنیا کو گمراہ کر رہی ہے۔

حریت ترجمان نے کہا کہ تنازعہ کشمیر کو نظرانداز کرنا اب کوئی آپشن نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حل طلب تنازعہ کشمیر جنوبی ایشیا اور عالمی امن کو خطرہ لاحق ہے اور اقوام متحدہ کو اس تنازعہ کے پر امن حل کیلئے فوری کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں صورتحال معمول پر آنے کے بھارتی حکمرانوں کے دعوے حقیقت کے برعکس ہیں بلکہ اگست 2019ء کے بعد سے مقبوضہ علاقے میں ہونیوالی تباہی میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے اور گھروں پر چھاپے، تلاشی کی کارروائیاں جاری ہیں جبکہ حریت قیادت، نوجوان اور خواتین سمیت ہزاروں کشمیری بھارت اور مقبوضہ کشمیر کی جیلوں میں قید ہیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری جنگ جیسی صورتحال اور بھارت کی طرف سے کیے جانے والے جرائم کا نوٹس لے اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق تنازعہ کشمیر کے حل کیلئے بھارت پر دبائو بڑھائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: نے کہا کہ انہوں نے دیا ہے ہے اور

پڑھیں:

باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔

عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔

(جاری ہے)

درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔

متعلقہ مضامین

  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو ہونے کا اندیشہ
  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو  ہونے کا اندیشہ
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • لاہور میں ہونیوالی ’’شہید اُمت کانفرنس‘‘ میں ایک اور نشست کا اضافہ
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ