Daily Mumtaz:
2026-07-24@07:34:15 GMT

پرینیتی نے بھارتی نیوز چینلز کو ‘سرکس‘ قرار دیدیا

اشاعت کی تاریخ: 10th, May 2025 GMT

پرینیتی نے بھارتی نیوز چینلز کو ‘سرکس‘ قرار دیدیا

بھارتی اداکارہ پرینیتی چوپڑا نے بھارتی میڈیا کو جھوٹی خبریں پھیلانے سے گریز کرنے کی نصیحت کردی۔

بھارتی میڈیا کی جانب سے بے بنیاد افواہیں پھیلانے پر اب بھارت میں بھی آوازیں اٹھنے لگی ہیں۔ اداکارہ پرینیتی چوپڑا نے میڈیا کو کہا کہ وہ جھوٹ کی خبریں نہ پھیلائیں اور ذمہ دارانہ رپورٹنگ کریں۔

پرینیتی کا کہنا تھا کہ اس وقت سب سے بڑا غلط کام جو ہم کر سکتے ہیں، وہ ہے جعلی خبریں پھیلانا اور ان لوگوں کو خوفزدہ کرنا جو اپنے گھروں میں بیٹھے ہیں۔ صرف حکومتی ذرائع پر بھروسہ کریں اور کچھ نہیں۔

اس سے قبل بالی وڈ کی مشہور اداکارہ سوناکشی سنہا نے بھی بھارتی نیوز چینلز کی غیر ذمہ دارانہ رپورٹنگ پر سخت تنقید کی تھی۔ انہوں نے بھارتی نیوز چینلز کو ‘خبروں کا سرکس‘ قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہ حقیقت کے بجائے سنسنی پھیلانے اور لوگوں میں خوف پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

سوناکشی نے انسٹاگرام اسٹوری پر کہا کہ ہمارے نیوز چینلز ایک مذاق بن چکے ہیں۔ ان کا ڈرامائی انداز اور خوف پھیلانے والی رپورٹنگ انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے۔ جنگ کو سنسنی خیز بنانا بند کریں اور ان لوگوں میں مزید خوف نہ پھیلائیں جو پہلے ہی بے چین ہیں۔

لوگوں سے گزارش ہے کہ وہ صرف معتبر خبر کا ذریعہ تلاش کریں اور اس گندگی کو دیکھنا بند کریں جو خبریں کہلاتی ہیں۔

یہ بیان بھارتی وزارت دفاع کی جانب سے نیوز چینلز، میڈیا آؤٹ لیٹس اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو ایڈوائزری جاری کرنے کے کچھ ہی دیر بعد سامنے آیا تھا۔

ایڈوائزری میں کہا گیا تھا کہ فوجی آپریشنز اور حکمت عملی کے فیصلوں کی لائیو کوریج کو نشر کرنے سے گریز کیا جائے کیونکہ اس سے آپریشنل سکیورٹی اور اہلکاروں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

Post Views: 2.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: نیوز چینلز

پڑھیں:

بھارتی سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز بعد بھوک ہڑتال ختم کر دی

 بھارت کے معروف سماجی کارکن، ماہرِ تعلیم سونم وانگچک(Sonam Wangchuck) نے تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ کرنے والے نوجوان مظاہرین کی حمایت میں جاری 26 روزہ بھوک ہڑتال ختم کر دی۔

وانگچک، جنہیں عوام میں “سونم سر” کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ انہوں نے مختلف شرائط پر طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں ممکنہ تشدد سے بچنے کے لیے بھوک ہڑتال ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

59 سالہ وانگچک کاکروچ جنتا پارٹی کے مظاہرین کی حمایت میں بھوک ہڑتال پر تھے، جو (NEET) کا پرچہ لیک ہونےکے بعد تعلیمی اصلاحات کے ساتھ ساتھ بھارتی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔

وانگچک نے ہڑتال کے دوران بتایا تھا کہ ان کا 11 کلوگرام وزن کم ہو چکا ہے، تاہم وہ “اب بھی زندہ ہیں”۔ گزشتہ ہفتے انہیں دہلی میں احتجاجی مقام سے پولیس نے زبردستی ہٹا کر اسپتال منتقل کر دیا تھا۔

Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy

— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 2026


بھارتی میڈیا این ڈی ٹی وی کے مطابق، حکومت کی جانب سے یہ یقین دہانی کرانے کے بعد کہ جنتر منتر پر احتجاج کرنے والے مظاہرین کے خلاف قانونی کارروائی نہیں کی جائے گی، وانگچک نے اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی۔ اس دوران بھارت کے وزرائے مملکت اور وزیر صحت نے بھی اسپتال میں ان سے ملاقات کی۔

وانگچک کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے کہا کہ ہمیں خوشی اور اطمینان ہے کہ سونم سر نے 26 دن بعد اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی ہے۔

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی کا پُرامن احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان استعفیٰ نہیں دیتے۔

مزیدپڑھیں:پاک ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز، ٹرافی کی رونمائی کردی گئی

واضح رہے کہ نئی دہلی میں بڑے پیمانے پر مظاہرے بدستور جاری ہیں۔ پیر کے روز پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے والے مظاہرین پر پولیس کے سخت کریک ڈاؤن کے نتیجے میں متعدد مظاہرین اور پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے۔

کاکروچ جنتا پارٹی اس وقت بھارت کی نمایاں نوجوان تحریکوں میں شمار کی جا رہی ہے اور اسے وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کے خلاف عوامی اختلاف کی بڑی علامت سمجھا جا رہا ہے۔

یہ تحریک مئی میں اعلیٰ تعلیمی امتحانات کے پرچے لیک ہونے اور دیگر بے ضابطگیوں کے خلاف ایک طنزیہ آن لائن مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، جس نے بعد ازاں سوشل میڈیا پر وسیع مقبولیت حاصل کی۔

مظاہرین، جو خود کو “کاکروچ” کہتے ہیں، گزشتہ ایک ماہ سے احتجاج کر رہے ہیں، جبکہ بعض ارکان نے بھوک ہڑتال بھی کی۔

ان کا مطالبہ ہے کہ ڈاکٹر بننے کے خواہشمند طلبہ کے اہم داخلہ امتحان کا پرچہ لیک ہونے کے بعد امتحان منسوخ ہونے کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان مستعفی ہوں۔

متعلقہ مضامین

  • بھارتی سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز بعد بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • میکسیکو کی معروف بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران دم توڑ گئیں
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی