وزیراعظم کا آپریشن بُنیان مّرصُوص کی کامیابی پر آج ملک بھر میں یومِ تشکر منانے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 11th, May 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم محمد شہبا شریف نے بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے اور آپریشن بُنیان مّرصُوص کی کامیابی پر آج بروز اتوار کو ملک بھر میں یومِ تشکر منانے کا اعلان کیا ہے۔
وزیراعظم نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ہم اس کامیابی پر اللہ کے شکر گزار ہیں، جس نے ہمیں سرخرو فرمایا، یہ دن افواج پاکستان کی بہادری کو خراج تحسین پیش کرنے کا دن ہے۔
وزیراعظم شہباز شرہف نے کہا کہ یومِ تشکر کا دن اللہ رب العزت کے حضور سجدہ شکر بجا لانے، افواج پاکستان کی بے مثال بہادری کو خراج تحسین پیش کرنے اور پوری قوم کے حوصلے اور وحدت کو سراہنے کے لیے منایا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ آپریشن بنیان المرصوص نے دشمن کی جارحیت کو مؤثر اور بھرپور جواب دیا اور پاکستان نے ہر محاذ پر برتری ثابت کی۔ دشمن کی جارحیت کے باوجود پاکستان نے صبر و تحمل لیکن مکمل تیاری کے ساتھ اپنے دفاع کو یقینی بنایا۔
قوم آج پورے ملک میں اجتماعی دعاؤں اور نوافل کا اہتمام کرے: وزیر اعظم
وزیراعظم نے اپیل کی کہ قوم بالخصوص علماء کرام آج پورے ملک میں اجتماعی دعاؤں اور نوافل کا اہتمام کریں، اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں اور شہداءو غازیوں کے لیے خصوصی دعائیں کریں۔
وزیراعظم نے کہا کہ افواج پاکستان کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ قوم ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔