طالبان نے موسیقی بجانے پر 14 افراد کو گرفتار کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 11th, May 2025 GMT
کابل: افغانستان کے شمالی صوبے تخار میں طالبان حکام نے رات کے وقت موسیقی بجانے اور گانے گانے کے الزام میں 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ افراد ایک رہائشی گھر میں جمع تھے جہاں وہ موسیقی بجا رہے تھے اور گانے گا رہے تھے، جس سے عوام کو پریشانی ہوئی۔
طالبان نے 2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ملک میں موسیقی پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ انہوں نے موسیقی کو "اخلاقی فساد" اور عوامی بے چینی کا سبب قرار دیتے ہوئے موسیقی کے آلات اور ساؤنڈ سسٹمز کو تلف کیا، موسیقی کے اسکول بند کر دیے اور تقاریب میں موسیقی بجانے پر پابندی عائد کی۔
پولیس کے مطابق زیرِ حراست افراد کے خلاف تحقیقات جاری ہیں۔
طالبان نے سابق موسیقاروں کو اسلامی نظموں اور بغیر ساز کے دینی کلام کی طرف راغب ہونے کی ترغیب دی ہے، کیونکہ ان کے سابقہ دورِ حکومت (1996–2001) کی طرح یہی موسیقی کی واحد جائز شکل ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
چیمپئنز لیگ جیتنے کی خوشی تشدد میں بدل گئی، پیرس میں جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپیں
یورپی چیمپئنز لیگ میں پی ایس جی کی کامیابی کے بعد فرانس کے دارالحکومت پیرس میں جشن پرتشدد ہنگاموں میں تبدیل ہو گیا۔ مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں، جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کے واقعات میں متعدد افراد زخمی ہوئے، جبکہ پولیس نے 400 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا۔
یورپی چیمپئنز لیگ کے فائنل میں پی ایس جی کی فتح کے بعد فرانس کے دارالحکومت پیرس میں جشن کا ماحول بدامنی اور تشدد میں تبدیل ہو گیا، جہاں مشتعل افراد نے جلاؤ گھیراؤ، توڑ پھوڑ اور پولیس کے ساتھ جھڑپوں کا سلسلہ شروع کر دیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں مظاہرین نے بوتل بم پھینکے، متعدد دکانوں پر حملے کیے اور سڑکوں پر موجود کچرے کے ڈبوں سمیت دیگر اشیا کو آگ لگا دی۔ ہنگامہ آرائی کے دوران درجنوں گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔
مظاہرین اور پولیس کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں کم از کم سات پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ بعض شرپسند عناصر نے آتش بازی کا رخ آسمان کے بجائے پولیس اہلکاروں کی جانب کر دیا، جس کے باعث کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا۔
فرانسیسی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 400 سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا۔ حکام کے مطابق گرفتار افراد کے قبضے سے تیزاب سے بھری بوتلیں اور دیگر خطرناک مواد بھی برآمد کیا گیا ہے۔
حکام کو پہلے ہی ممکنہ ہنگامہ آرائی کا خدشہ تھا، جس کے پیش نظر پیرس میں 22 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔ اس کے باوجود شہر کے مختلف حصوں میں جلاؤ گھیراؤ اور پرتشدد واقعات کو مکمل طور پر روکنا ممکن نہ ہو سکا۔
واضح رہے کہ پیرس سینٹ جرمین (PSG) نے چیمپئنز لیگ کے فائنل میں آرسنل کو شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کیا، جس کے بعد ہزاروں شائقین جشن منانے کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔ تاہم بعض مقامات پر یہ جشن بدامنی اور تشدد میں تبدیل ہو گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں