ہم نے ملٹری سطح پر بھارت کو سرپرائز دیا: لیفٹیننٹ جنرل (ر) عامر ریاض
اشاعت کی تاریخ: 11th, May 2025 GMT
’جیو نیوز‘ گریب
ممتاز دفاعی تجزیہ کار لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عامر ریاض نے کہا ہے کہ پاکستان نے جواب دیا تو بھارت کو سیز فائر کی طرف جانا پڑا، ہم نے ملٹری سطح پر بھارت کو سرپرائز دیا۔
جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے اسٹرائیک میں اپنے تمام اہداف حاصل کیے، بھارتی افواج کے مورال پر بہت بڑا اثر پڑا ہے۔
عامر ریاض کا کہنا ہے کہ اُمید ہے کہ بھارت اب پُرامن حالات کی طرف جائے، ہم نے پورے تحمل کا مظاہرہ کیا۔
سابق مشیر قومی سلامتی لیفٹیننٹ جنرل (ر) ناصر جنجوعہ نے کہا ہے کہ بھارت سے بہت مِس کیلکولیشن ہوئی ہے، بھارت کی صلاحیت ہی نہیں تھی۔
انہوں نے کہا کہ بھارتی سیاسی قیادت نے انتہائی غیر ذمے داری کا مظاہرہ کیا، بھارتی سیاسی قیادت نے اپنی افواج پر وہ بوجھ ڈال دیا جو وہ اٹھانے کے قابل نہیں تھے۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ بھارتی میڈیا اور حکومت نے بہت جھوٹ بولا، پاکستان ہمیشہ سچ کے ساتھ چلا، پاکستان نے جو کیا وہ صاف بتا دیا، ہم نے ان کے پانچ جہاز مار گرائے۔
لیفٹیننٹ جنرل (ر) عامر ریاض نے یہ بھی کہا کہ بھارتی افواج کو معلوم تھا کہ ان کی سیاسی قیادت ان کے ساتھ غلط کر رہی ہے، ہم نے اپنے ایئر ڈیفنس سسٹم کو ایکسپوز کیے بغیر بھارتی ڈرونز کو تباہ کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض کہ بھارت نے کہا
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔