وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بھارت سے دہشت گردی، کشمیر اور پانی کے معاملے پر بات چیت ہوگی۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہشت گردی نسبتاً نیا مسئلہ ہے لیکن باقی دوسرے مسائل بہت پرانے مسائل ہیں، ان پر بحث ہونی چاہیے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ ماضی میں افغان جنگوں میں ہمارے کردار کو لے کر بھارت ہم پر الزام لگائے کیوں کہ دنیا میں ہم دہشت گردی کا سب سے بڑا نشانہ ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: بھارتی طیارے گرانا جنگی تاریخ میں سنگ میل ہے، وزیر دفاع خواجہ آصف

خواجہ آصف نے کہا کہ دہشت گردی کا جو داغ امریکا اور  مغرب کی وجہ سے ہم پر لگا ہے اس کا ہم بے شمار نقصان اٹھارہے ہیں، ایک ملک جو دہشت گردی کا سب سے زیادہ شکار ہے اس پر دہشت گردی کا الزام لگا کر حملہ کرنا ستم ظریفی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: امریکا کوملنے والی’خطرناک خفیہ اطلاع‘ کیا تھی جس نے انڈیا کو جنگ بندی پر مجبور کیا؟

وزیر دفاع نے کہا کہ پانی کا مسئلہ 60 کی دہائی میں حل ہوچکا ہے، سندھ طاس معاہدے میں کوئی ابہام ہے نہ اسے معطل کرنے کی گنجائش ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ بھارت سے ہماری جنگیں کشمیر کے مسئلے پر ہوئی ہیں، مودی نے ہمارے خطے کا جہنم میں دھکیلنے کی کوشش کی جس سے اللہ نے ہمیں بچا لیا، میں سمجھتا ہوں کہ یہ مسئلے حل ہونے چاہئیں۔ اس خطے کی 2 ارب کی آبادی ہے اس کے غریب لوگوں کو امن سے رہنے کا حق دیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کل کہا ہے کہ مسئہ کشمیر پر بھی بات ہونی چاہیے اور اس کا حل ہونا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیے: اقوام متحدہ کے سربراہ کی جانب سے جنگ بندی کا خیرمقدم

وزیر دفاع نے کہا کہ انڈیا کے خلاف تیاری کی شہادت پچھلے دنوں کی لڑائی کے طور پر موجود ہے، جس طرح کا جواب ہم نے دیا اور جس طرح ان کی پارلیمان میں وزیر اعظم کو برا بھلا کہا جا رہا ہے اس سے واضح ہے کہ ابھی تک وہ اپنے زخم چاٹ رہے ہیں۔ سفارتی طور پر بھی یہ ہماری کامیابی ہے کہ اسرائیل سمیت کسی بھی اتحادی ملک نے بھارت کا ساتھ نہیں دیا، انڈیا نے اب کوئی پیش قدمی کی تو پوری دنیا ہمارے ساتھ کھڑی ہوگی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: خواجہ آصف نے کہا دہشت گردی کا وزیر دفاع نے کہا کہ

پڑھیں:

پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت

کابینہ کمیٹی برائے متعدی امراض، ڈینگی و ڈیزاسٹر منیجمنٹ کا اجلاس لاہور میں ہوا، پنجاب کے وزرائے صحت سلمان رفیق اور خواجہ عمران نذیر نے اجلاس کی صدارت مشترکہ طور پر صدارت کی۔ 

اس موقع پر پنجاب کے وزرائے صحت نے کہا کہ ڈینگی کے افزائش والے اضلاع پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، صوبے بھر میں ڈینگی کی تازہ صورتحال پر قابو پانے کیلیے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ 

صوبائی وزیر خواجہ عمران نذیر نے متعلقہ افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت کی۔ انھوں نے کہا ہمیشہ دیکھا گیا ہے کہ جون جولائی میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کے مثبت نتائج سامنے آتے ہیں۔ 

خواجہ عمران نذیر نے کہا ڈینگی وائرس پر قابو پانے کے اقدامات کسی ایک محکمہ کی ذمہ داری نہیں، اقدامات کی ذمہ داری تمام اسٹیک ہولڈرز کی ہے۔ 

خواجہ عمران نے سی ای او ہیلتھ کو ضلعی انتظامیہ کیساتھ مسلسل رابطے میں رہنے کی ہدایت کی۔ 

انھوں نے کہا کہ ایچ آر منیجمنٹ، والنٹیر ماڈل کو اپناتے ہوئے ڈینگی کا خاتمہ ممکن ہے، یونیورسٹی اور کالجز کے طلبہ  کو انسداد ڈینگی کی کارروائیوں میں شامل کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ 

خواجہ سلمان رفیق نے کہا ڈینگی کی بوگس سرویلنس ناقابل برداشت ہے، عوام اپنےگھروں، دکانوں اور دیگر مقامات پر صفائی کویقینی بنائیں

متعلقہ مضامین

  • امریکا کیوں ایران سے ڈیل کی بھیک مانگ رہا ہے؟ امریکی ڈیموکریٹک سینیٹر کے وزیر خارجہ سے سخت سوالات
  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟