کراچی:

پولیس نے جناح اسپتال کے سامنے ہوٹل پر ڈکیتی کے دوران فائرنگ کے واقعہ کو ٹارگٹڈ کارروائی قرار دیدیا۔

ایس ایس پی ساؤتھ کا کہنا ہے کہ جناح اسپتال بچہ وارڈ کے سامنے چائے کے ہوٹل پر فائرنگ کا واقعہ ڈکیتی کا نہیں بلکہ ٹارگٹڈ کارروائی تھی، واقعے میں ایک شخص جاں بحق 4 افراد زخمی ہوئے، فائرنگ کرنے والے شخص نے بھی اپنے آپکو گولی مار کر خودکشی کر لی تھی۔

ترجمان کراچی پولیس کے مطابق ملزم کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے شخص کی شناخت 25 سالہ عمران ولد عبدالرشید کے نام سے کی گئی جبکہ زخمیوں میں 25 سالہ کلیم ولد محمد صادق ، 27 سالہ ابو بکر ولد مہراب خان ، 20 سالہ ہارون ولد عبدالطیف اور 35 سالہ افضل ولد عقیل کے نام سے کی گئی جبکہ خودکشی کرنے والے ملزم کی شناخت 33 سالہ طاہر علی ولد محمد شیر کے نام سے کی گئی۔

واقعے کے فوری بعد ہوٹل کے ملازمین نے میڈیا کو بتایا تھا کہ واقعہ ڈکیتی کی واردات کے دوران مزاحمت پر پیش آیا، ہلاک ہونے والا شخص ڈاکو تھا، ہوٹل ملازمین نے بتایا تھا کہ واقعے کے وقت ایک شخص ہوٹل کے اندر آیا اس نے پستول نکال کر سب سے پہلے چائے بنانے والے پر فائرنگ کی تاہم وہ بیٹھ گیا تھا اور خوش قسمتی سے محفوظ رہا جس کے بعد ملزم نے ہوٹل میں بیٹھے تین افراد کو لوٹنے کے بعد فائرنگ کر کے زخمی کیا جس میں سے 25 سالہ عمران جاں بحق ہوا تھا۔

بعدازاں ملزم ہوٹل کے مچان پر چلا گیا جہاں دو ملازمین ہارون اور اکبر سو رہے تھے ملزم نے انہیں بھی لوٹ کر فائرنگ کر کے زخمی کیا اور پھر واپسی کے لیے پلٹا تو اس نے دیکھا کہ عوام اکٹھی ہوگئی ہے جس پر ملزم نے اپنے آپکو گولی مار لی۔

 واقعے کے بعد صدر تھانے کی پولیس موقع پر ہہنچ گئی تھی، واقعے کے دو گھنٹے بعد ایس ایس پی ساؤتھ مہظور علی نے بتایا کہ واقعہ ڈکیتی کا نہیں بلکہ ٹارگٹڈ کارروائی تھی، ملزم طاہر علی عمران کو ٹارگٹ کرنے کے لیے ہوٹل میں آیا تھا اور اس نے اندھا دھند فائرنگ کی تھی جس میں تین افراد زخمی بھی ہوئے، ملزم نے منصوبے کے تحت خودکشی کی ہے تاہم پولیس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے۔

صدر پولیس نے واقعے کے دو مقامات درج کر لیے ہیں، پہلا مقدمہ مقتول عمران کے سالے محمد علی تنولی کی مدعیت میں قتل اور اقدام قتل کی دفعات کے تحت خود کو گولی مارکرخود کشی کرنے والے ملزم ظاہرعلی کے خلاف درج کیا گیا۔

مدعی مقدمہ محمد علی تنولی کے مطابق میں اور میرا مقتول بہنوئی این آئی ای ایچ اسپتال پہنچے تھے جہاں میری نومولود بھانجی زیرعلاج تھی رات گیارہ بجے میں اور بہنوئی جناح اسپتال کے قریب واقع ہوٹل پربیٹھ کرکھانا کھا رہے تھے، ہوٹل میں موجود شلوارقمیض میں ملبوس ایک باریش شخص نے اچانک اٹھ کر ہم پر فائرنگ کردی۔

فائرنگ سے میرا بہنوئی عمران شدید زخمی ہوگیا جبکہ میں نے بھاگ کرجان بچائی، بہنوئی کو سر اور جسم کے مختلف حصوں پر گولیاں لگیں، ملزم نے اپنے اسلحے سے دوسرے لوگوں پربھی اندھا دھند فائرنگ کی جس سے مزید لوگ زخمی ہوئے میں اپنے بہنوئی کو شدید زخمی حالت لیکرجناح اسپتال پہنچا وہاں مزید معلوم ہوا کہ چارافراد مزید زخمی ہوکراسپتال لائے گئے ہیں۔

اسپتال میں میرا بہنوئی دوران علاج دم توڑ گیا جبکہ بہنوئی اور دیگرافراد کو زخمی کرنے والا شخص ظاہرعلی بھی جناح اسپتال میں دوران علاج ہلاک ہوگیا، صدر پولیس نے دوسرا مقدمہ سرکارمدعیت میں ہلاک ملزم ظاہرعلی کے قبضے سے ملنے والے غیرقانونی اسلحے کا درج کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: جناح اسپتال فائرنگ کر پر فائرنگ واقعے کے

پڑھیں:

جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری

جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کے نئے کیسز سامنے آنے کے بعد صوبائی محکمہ صحت کی تشویش میں اچانک اضافہ ہو گیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ملتان کے ’نشتر اسپتال‘ میں اب تک منکی پاکس کے 4 مریضوں کی باقاعدہ تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اسپتال اور گردونواح میں الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔

آئسولیشن وارڈ میں مریضوں کی تعداد اور آبائی علاقے

نشتر اسپتال انتظامیہ کے مطابق حال ہی میں ایک اور مشتبہ مریض کو وائرس کی علامات ظاہر ہونے پر فوری طور پر خصوصی آئسولیشن وارڈ میں داخل کر لیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سندھ میں منکی پاکس کے کیسز میں اضافہ، 9 اموات کی تصدیق

اس نئے کیس کے بعد وارڈ میں زیرِ علاج اور کڑی نگرانی میں رکھے گئے مریضوں کی مجموعی تعداد 5 ہو گئی ہے۔ اسپتال حکام کا کہنا ہے کہ جن مریضوں میں ’منکی پاکس‘ کی تصدیق ہوئی ہے ان کا تعلق جنوبی پنجاب کے مختلف اضلاع بالخصوص ملتان، مظفرگڑھ اور وہاڑی سے ہے۔

اسپتال انتظامیہ کے اقدامات اور ٹیسٹنگ

اسپتال کے وبائی امراض کے ماہرین اور انتظامیہ کا کہنا ہے کہ منکی پاکس کے تصدیق شدہ مریضوں کے علاج اور دیکھ بھال پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ ان کی جلد صحت یابی ممکن ہو سکے۔

دوسری جانب، نئے آنے والے مشتبہ مریض کے خون اور زخموں کے نمونے (سیمپلز) حتمی جانچ اور تصدیق کے لیے لیبارٹری بھجوا دیے گئے ہیں، جن کی رپورٹ اگلے چند روز میں موصول ہونے کا امکان ہے۔

محکمہ صحت کی نگرانی اور احتیاطی تدابیر کی اپیل

محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام نے عوام الناس کو وبائی مرض سے بچنے کے لیے فوری طور پر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی سخت ہدایت کی ہے۔

مزید پڑھیں:کراچی میں منکی پاکس: بیوی کے بعد شوہر بھی لپیٹ میں آگیا

ترجمان محکمہ صحت کے مطابق خطے میں صورتحال کی مسلسل اور سخت نگرانی کی جا رہی ہے اور اس موذی بیماری کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ضلعی سطح پر تمام ضروری اور حفاظتی اقدامات ہنگامی بنیادوں پر جاری ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

احتیاطی تدابیر اسپتال اقدامات ٹیسٹنگ جنوبی پنجاب خون زخموں لیبارٹری محکمہ صحت منکی پاکس نگرانی۔ نمونے

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • کراچی: سرجانی ٹاؤن میں فائرنگ سے باپ، بیٹا جاں بحق، دوسرا بیٹا زخمی
  • میرب علی سرجری کے بعد اسپتال منتقل، مداحوں سے صحت یابی کی دعاؤں کی اپیل
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • اوباڑو : تیز آندھی اور بارش کے باعث مختلف حادثات میں 50 کے قریب افراد زخمی
  • سوات: گھر کی چھت اور ہوٹل کا کمرہ گرنے سے بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے