وزیر داخلہ کا دہشت گرد تنظیموں سے بھی بھارت کی طرح نمٹنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT
وزیر داخلہ کا دہشت گرد تنظیموں سے بھی بھارت کی طرح نمٹنے کا اعلان WhatsAppFacebookTwitter 0 12 May, 2025 سب نیوز
لاہور (سب نیوز)وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ پاکستان نے تمام محاذوں پر بھارت کو شکست دی، کالعدم بی ایل اے سمیت تمام دہشتگرد تنظیموں سے بھی اسی طرح نمٹیں گے۔
لاہور میں بھارتی ڈرون حملے میں شہید نوجوان کے گھر آمد کے موقع پر وزیرداخلہ محسن نقوی نے کہا کہ اب انڈیا کوئی بھی ایڈونچر کرنے سے پہلے100 بار سوچے گا، ہمارا کسی دہشتگردی سے کوئی تعلق نہیں، بھارت نے دہشتگردی کا ڈرامہ رچایا، ڈرامے بنانے میں ان کی انڈسٹری کوسب جانتے ہیں۔
محسن نقوی نے کہا کہ جنگیں اب 3حصوں میں نہیں، 5حصوں میں ہو چکی، بری، بحری اور فضائی محاذ کے ساتھ سفارتی محاذ بھی اہم ہے، پانچواں محاذ میڈیا کا ہے، پاکستان نے تمام محاذوں پر بھارت کو شکست دی، کالعدم تنظیموں سے بھی اسی طرح نمٹیں گے۔وزیرداخلہ محسن نقوی نے اس موقع پر بھارتی ڈرون حملے میں شہید نوجوان علی حیدرکی والدہ شمیم بی بی سے اظہار تعزیت کی، کچا جیل روڈ کا رہائشی علی حیدرر اولپنڈی میں برگر کا اسٹال لگانے گیا تھا، 20 سال کا شہیدعلی حیدر 8 بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا۔
وزیرداخلہ محسن نقوی نے کہا کہ اللہ تعالی شہید کے اہل خانہ کوصبردے، 20 سال کا شہید نوجوان اہلخانہ کا واحد سہارا تھا، شہید کے اہلخانہ کے ساتھ ہیں،ہر ممکن مدد کریں گے، بھارت سے جنگ میں ان شہداکی وجہ سے کامیابیاں ملیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرملک بھر کی موٹرویز کے اطراف پھلدار درخت اور وسیع شجرکاری کا فیصلہ،نجی شعبے کو سرکاری اراضی لیز پر دینے کی تجویز ملک بھر کی موٹرویز کے اطراف پھلدار درخت اور وسیع شجرکاری کا فیصلہ،نجی شعبے کو سرکاری اراضی لیز پر دینے کی تجویز پاک بھارت جنگ بندی،دونوں ممالک کے ڈی جی ایم اوز کے درمیان ہاٹ لائن پر بات چیت کا پہلا راونڈ مکمل بھارتی میڈیا بھارت کی بدترین شکست کا اعتراف کرنے لگا،پاک فضائیہ کی تعریفیں پاک بھارت کشیدگی، حکومت کا آئی ایم ایف کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ پاکستان نے مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر پھر سے اجاگر کر دیا، عمر عبداللہ او آئی سی کا پاک بھارت جنگ بندی کا خیرمقدم، مسئلہ کشمیر کے پرامن حل پر زورCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: تنظیموں سے بھی
پڑھیں:
جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
جرمنی کی وفاقی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ یکم اگست 2026 یا اس کے بعد توسیع کیے جانے والے افغان پاسپورٹس کو جرمنی میں درست سفری دستاویز کے طور پر تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
وزارت داخلہ کی ترجمان ایلینا سنگر نے افغانستان انٹرنیشنل کو جاری بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ افغان سفارتی مشنز میں پاسپورٹ کے حصول کے طریقہ کار میں ہونے والی تبدیلیوں، بین الاقوامی قانونی تقاضوں اور بین الاقوامی شہری ہوا بازی تنظیم (ICAO) کی سفارشات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جرمنی کے رہائشی قانون (Residence Act) کی دفعہ 3(1) کے تحت ملک میں داخل ہونے یا رہائش اختیار کرنے والے غیر ملکیوں کے لیے لازم ہے کہ ان کے پاس ایک درست اور تسلیم شدہ پاسپورٹ یا اس کے متبادل منظور شدہ سفری دستاویز موجود ہو۔
وزارت داخلہ نے واضح کیا کہ یکم اگست 2026 سے پہلے توسیع کیے گئے افغان پاسپورٹس اس نئی پالیسی سے متاثر نہیں ہوں گے اور بدستور قابل قبول رہیں گے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ جرمنی میں اپنے رہائشی اجازت نامے (ریذیڈنس پرمٹ) کی تجدید کے خواہش مند افغان شہریوں کو بھی ایک درست اور تسلیم شدہ سفری دستاویز پیش کرنا ہوگی۔
تاہم جرمنی کے مقامی امیگریشن حکام ہر درخواست کا انفرادی بنیادوں پر جائزہ لیتے رہیں گے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ متعلقہ افغان شہری کے لیے افغان سفارتی مشن سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن اور مناسب ہے یا نہیں۔
اگر متعلقہ اتھارٹی اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ کسی افغان شہری کے لیے افغان سفارت خانے یا قونصل خانے سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن یا مناسب نہیں، تو ایسے فرد کو ٹریول ڈاکیومنٹ فار فارنرز (غیر ملکیوں کے لیے سفری دستاویز) جاری کی جا سکتی ہے۔
جرمن وزارت داخلہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ 1951 کے جنیوا ریفیوجی کنونشن کے تحت تسلیم شدہ افغان مہاجرین کو افغان سفارتی مشنز سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ایسے افراد جرمنی کے قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے ریفیوجی ٹریول ڈاکیومنٹ حاصل کر سکتے ہیں۔
وزارت کے مطابق اس وقت یہ اندازہ لگانا ممکن نہیں کہ نئی پالیسی سے کتنے افغان شہری متاثر ہوں گے، تاہم نئے افغان پاسپورٹس کے اجرا کے لیے درخواستیں بدستور دی جا سکتی ہیں۔
جرمن وزارت داخلہ نے یہ بھی واضح کیا کہ اس فیصلے کا جرمنی میں طالبان کی جانب سے مقرر کردہ سفارتی عملے کی موجودگی یا افغان شہریوں کی ملک بدری سے متعلق جرمن حکومت کے پروگرام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں