اسلام آباد میں سکھ وفد سے ملاقات کے موقع پر جماعت اسلامی کے امیر کا کہنا تھا کہ بھارتی جارحیت کے خلاف پاکستان کو بڑی کامیابی ملی ہے، مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے کوئی کردار ادا کرنا چاہتا ہے تو بظاہر اس میں مضائقہ نہیں مگر حکمران کسی دھوکے کا شکار ہوئے بغیر مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عمل درآمد کے اقدام کے لیے بات چیت کریں۔  اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ بھارت جارحانہ کاروائیوں سے باز نہ آیا تو پاکستان کی طرف سے کوئی گارنٹی نہیں۔ قوم کشمیر پر کسی قسم کا سمجھوتہ قبول نہیں کرے گی، مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق پیش رفت ہونی چاہیے۔ سندھ طاس معاہدہ پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ اسلام آباد میں پرتاب سنگھ کی قیادت میں سکھ برادری کے وفد نے امیر جماعت سے ملاقات کی۔ وفد سے بات چیت کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ پوری قوم ملک کی حفاظت اور سالمیت کے لیے متحد اور یکسو ہے۔ قوم نے وطن کی حفاظت کے لیے تمام سیاسی اختلافات بھلا دئیے، یہ ایک نیک شگون ہے۔ حکومت اب ذمہ داری کا مظاہرہ کرے اور اس اتحاد کو برقرار رکھنے کے لیے فوری اور مناسب اقدامات اٹھائے۔

امیر جماعت نے کہا کہ بھارتی جارحیت کے خلاف پاکستان کو بڑی کامیابی ملی ہے۔ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے کوئی کردار ادا کرنا چاہتا ہے تو بظاہر اس میں مضائقہ نہیں مگر حکمران کسی دھوکے کا شکار ہوئے بغیر مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے اقدام کے لیے بات چیت کریں۔ کسی عالمی رہنما کے محض بیان پر حکمرانوں کا پھولے نہ سمانا ناقابل فہم ہے۔ مسئلہ کشمیر پر کسی کمزوری کا مظاہرہ کیے بغیر اس کے لیے ہر محاذ پر کوششیں تیز کی جائیں۔ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، کشمیر کے عوام کو حق خودارادیت ملنا چاہیے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ بھارت اپنے ذرائع ابلاغ کے زہریلے اور منفی پروپیگنڈے کی وجہ سے دنیا میں بے نقاب و ناقابل اعتبار ہوگیا ہے۔ حکومت ہندوتوا نظریے کے پیروکاروں کا اصل چہرہ پوری دنیا کو دکھائے۔ اقوام عالم کو بتایا جائے کہ مودی حکومت کے جنونی نظریات کی وجہ سے پورے جنوبی ایشیا کے امن کو خطرہ لاحق ہے، بھارت میں مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتیں محفوظ نہیں، انھیں نشانہ بنایا جاتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے کہ بھارت نے کہا

پڑھیں:

بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا

بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔

میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔

مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔

یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔

        View this post on Instagram                      

تاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔

حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا