بھارت جارحانہ کاروائیوں سے باز نہ آیا تو پاکستان کی طرف سے کوئی گارنٹی نہیں، حافظ نعیم الرحمن
اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT
اسلام آباد میں سکھ وفد سے ملاقات کے موقع پر جماعت اسلامی کے امیر کا کہنا تھا کہ بھارتی جارحیت کے خلاف پاکستان کو بڑی کامیابی ملی ہے، مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے کوئی کردار ادا کرنا چاہتا ہے تو بظاہر اس میں مضائقہ نہیں مگر حکمران کسی دھوکے کا شکار ہوئے بغیر مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عمل درآمد کے اقدام کے لیے بات چیت کریں۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ بھارت جارحانہ کاروائیوں سے باز نہ آیا تو پاکستان کی طرف سے کوئی گارنٹی نہیں۔ قوم کشمیر پر کسی قسم کا سمجھوتہ قبول نہیں کرے گی، مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق پیش رفت ہونی چاہیے۔ سندھ طاس معاہدہ پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ اسلام آباد میں پرتاب سنگھ کی قیادت میں سکھ برادری کے وفد نے امیر جماعت سے ملاقات کی۔ وفد سے بات چیت کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ پوری قوم ملک کی حفاظت اور سالمیت کے لیے متحد اور یکسو ہے۔ قوم نے وطن کی حفاظت کے لیے تمام سیاسی اختلافات بھلا دئیے، یہ ایک نیک شگون ہے۔ حکومت اب ذمہ داری کا مظاہرہ کرے اور اس اتحاد کو برقرار رکھنے کے لیے فوری اور مناسب اقدامات اٹھائے۔
امیر جماعت نے کہا کہ بھارتی جارحیت کے خلاف پاکستان کو بڑی کامیابی ملی ہے۔ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے کوئی کردار ادا کرنا چاہتا ہے تو بظاہر اس میں مضائقہ نہیں مگر حکمران کسی دھوکے کا شکار ہوئے بغیر مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے اقدام کے لیے بات چیت کریں۔ کسی عالمی رہنما کے محض بیان پر حکمرانوں کا پھولے نہ سمانا ناقابل فہم ہے۔ مسئلہ کشمیر پر کسی کمزوری کا مظاہرہ کیے بغیر اس کے لیے ہر محاذ پر کوششیں تیز کی جائیں۔ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، کشمیر کے عوام کو حق خودارادیت ملنا چاہیے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ بھارت اپنے ذرائع ابلاغ کے زہریلے اور منفی پروپیگنڈے کی وجہ سے دنیا میں بے نقاب و ناقابل اعتبار ہوگیا ہے۔ حکومت ہندوتوا نظریے کے پیروکاروں کا اصل چہرہ پوری دنیا کو دکھائے۔ اقوام عالم کو بتایا جائے کہ مودی حکومت کے جنونی نظریات کی وجہ سے پورے جنوبی ایشیا کے امن کو خطرہ لاحق ہے، بھارت میں مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتیں محفوظ نہیں، انھیں نشانہ بنایا جاتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے کہ بھارت نے کہا
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔