’’ آپریشن سندور‘‘ بھارت کی مانگ میں راکھ بھر گیا،مودی تنہا ہو چکے ، تقریر نوحہ تھی، سینیٹرعرفان صدیقی
اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن )مسلم لیگ (ن )کے رہنما سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا مودی کی تقریر سے ظاہر ہورہا تھا ایک ہارے شخص کی تقریر ہے، مودی اپنی کامیابی کا ایک ثبوت پیش نہیں کرسکے۔
’’جیو نیوز‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ مودی نے ایک چیز کا اعتراف کیا کہ انھوں نے جنگ کا آغاز کیا، پاکستان جنگ بندی کی خواہش کرنا چاہتا تو پہلے ہی کر لیتا۔ جب آپ 10 مئی کو شکست کھا چکے تھے تو جنگ بندی کی خواہش کی، مودی کو اب بھارت کے عوام سےجنگ لڑنی ہے، انھیں اب عالمی سطح پر بھی جواب دینا ہوگا۔ مودی کے ساتھ کوئی نہیں کھڑا، وہ تنہا ہوچکے ہیں۔ مودی کی تقریر شرمناک شکست کا اعتراف ہے، ان کی باڈی لینگویج ہارے ہوئے شخص کا نوحہ تھی۔
ساجد میر کے انتقال کے باعث خالی ہونیوالی سینیٹ کی نشست پر الیکشن شیڈول جاری
اسلام آباد سے جاری بیان میں سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ یہ کھسیانی بلی کی بوکھلاہٹ تھی، جسے نوچنے کو کھمبا بھی نہیں ملا،’’ آپریشن سندور‘‘ بھارت کی مانگ میں راکھ بھر گیا۔ مودی اتنا بتا دیتا رافیل اور دیگر طیاروں کی لاشیں کہاں گل سڑ رہی ہیں؟رسوا ہونے کے بعد ایسا سیاپا کرنے کی بجائے چپ رہنا بہتر آپشن ہوتا، ذلت کے داغ بہت گہرے ہوتے ہیں، تقریروں سے نہیں دھلتے۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔