Daily Ausaf:
2026-06-03@01:10:20 GMT

نریندر مودی بمقابلہ مولانا محمد مسعود ازہر

اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT

پاک فوج کے ترجمان نے کہا تھا کہ جب ہم حملہ کریں گے تو ان کے میڈیا کو بتانا نہیں پڑے گا، ہمارا حملہ نظر بھی آئے گا اور پھر پاکستان نے بھارت پر جب جوابی حملے کئے تو ان حملوں کی شدت و حدت کو صرف دہلی ہی نہیں، بلکہ دنیا بھر میں محسوس کیا گیا، پاک فوج کے شاہینوں کے ہاتھوں بھارتی فوج کی درگت بنتی دیکھ کر ایک عرب نے سوشل میڈیا پر عربی میں تحریر کیا کہ ’’بہت وقت گزر گیا۔ ان محروم آنکھوں نے ایک ہی منظر بار بار دیکھا ۔کا فروں کو مسلمانوں پر آسمان سے آگ اور لوہا برساتے ہوئے۔کبھی عراق کے آسمان شعلوں سے بھر گئے،کبھی فلسطین کی گلیاں خون سے رنگین ہو گئیں،کبھی افغانستان کے پہاڑ لرز اٹھے اور کبھی شام و لبنان کی زمین پر آسمان سے قیامت نازل ہوئی۔لیکن آج…! آج ان آنکھوں نے وہ منظر دیکھا جس نے برسوں کی پیاس بجھا دی۔ہم نے دیکھا کہ پاکستان کے شاہینوں نے گائوپوجنے والوں پر آسمان سے آگ برسائی۔دل کی دھڑکنیں سجدہ ریز ہو گئیں۔ایسا سکون دل میں اترا جو لفظوں میں بیان نہیں ہو سکتا۔اے اللہ!تیرے ہی لئے ہے تمام تعریف۔ہزار بار شکر کہ تو نے ہمیں یہ دن دکھایا۔یہ تیرا ہی فضل ہے کہ مظلوموں کی دعائیں سنی گئیں اور ظالموں پر آسمان سے بجلی گری!‘‘
پاک فوج کے ترجمان نے اپنی پریس کانفرنس میں سوال اٹھایا تھا کہ دنیا کا کون سا مذہب عبادت گاہوں اور مقدس کتابوں کو نشانہ بنانے کی اجازت دیتا ہے ؟یہ بات حقیقت ہے کہ دنیا کا کوئی بھی مذہب عبادت گاہوں اور مقدس کتابوں کو نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دیتا ، سوائے ’’ہندو توا مودی ازم‘‘کے ’’ہندو توا مودی ازم‘‘ دراصل مغلوبہ ہے،شیطنت و دنگا و فساد کا،یہ کوئی مذہب نہیں، بلکہ فتنہ ہے فتنہ اور اس فتنے کا قرآنی علاج جہادو قتال بتایا گیا ہے،کہنے کی حد تک بھارت اپنے اپ کو ایشیا ء کی سپر پاور سمجھتا ہے لیکن اس کے وزیراعظم اور آرمی چیف کی بزدلی کی انتہا یہ ہے کہ انہیں پاکستان میں سب سے زیادہ خوف ایک درویش صفت مجاہد مولانا محمد مسعود ازہر سے محسوس ہوتا ہے، کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ اگر پاکستان کی حکومتوں نے مولانا مسعود ازہر اور حافظ سعید جیسے ہیروز کو پابندیوں میں نہ جکڑا ہوتا تو بھارت میں ہندو توا مودی ازم اس وقت تک ’’وڑ‘‘چکا ہوتا ،افسوس کہ مولانا مسعود ازہر جیسے خدا پرستوں کو ہمیشہ اپنوں نے غیروں کے ساتھ مل کر نقصان پہنچانے کی کوشش کی، وگرنہ ہندو ازم تو کبھی بھی طاقتور نہیں رہا، آپ سلطان محمود غزنوی کو دیکھ لیں، آج بھی ہندوستانی بتوں پر محمود غزنوی کا نام سن کر لرزہ طاری ہو جاتا ہے، مسلمان اللہ کا نام لیوا ہو، اور اس کے دل و دماغ پر جہاد کی عبادت چھائی ہو، ہو نہیں سکتا کہ کوئی مشرک اس پر غالب آجائے، مودی کے ہندوستان میں مولانا محمد مسعود ازہر کے خاندان کے معصوم بچوں عفت مآب عورتوں اور بوڑھوں کو شہید کر کے جشن منایا جا رہا ہے ،جو ریاست کم ظرفی کی اس انتہا کو پہنچ جائے وہ ریاست صرف ایشیا ء کی ہی نہیں ، چاہے دنیا کی سپر پاور بھی کیوں نہ ہو اسے رب کے عذاب سے بچا کوئی نہیں سکتا، مسلمانوں کے معصوم بچوں ، عورتوں بوڑھوں، مسجدوں کے خلاف نریندر مودی کے جرائم میں دن بدن اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے، نریندر مودی پاکستان کا پانی بند کرکے 25کروڑ پاکستانیوں کو مارنا چاہتا ہے، انسانیت کے اس بدترین مجرم کو کڑی سزا دینا اس لئے لازم ہو چکا، تا کہ انسان اس کے ظلم و تعدی سے محفوظ رہ سکیں، مودی و نیتن یاہو جیسے انسانیت کے مجرموں کا علاج نہ تو مذمتی قراردادوں، نہ مذمتی بیانات ،نہ جلسے اور نہ جلوسوں سے ممکن ہے، بلکہ ان کا علاج صرف اور صرف جہاد و قتال ہی کے ذریعے ممکن ہے،اس خاکسار نے مولانا محمد مسعود ازہر کی تقریبا ً 30سالہ جہادی زندگی کے کارناموں پر بار بار نگاہ دوڑائی ،مجھے ان کے دامن پہ نہ تو دشمن کے بچوں اور عورتوں کے خون کے چھینٹے نظر آئے ،نہ مندروں پر نہ عام ہندوئوں پر اور نہ ہندوستانی شہریوں پر حملے نظر آئے ۔
مولانا محمد مسعود ازہر جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹائون کے اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ولی کامل شیخ الحدیث حضرت مولانا مفتی ولی حسن ٹونکی نور اللہ مرقدہ کے خلیفہ مجاز بھی ہیں،آپ تقویٰ کی دولت سے مالا مال، صاحب نسبت بزرگ ہیں ،تکبر،غرور،نخوت،بد اخلاقی اور سخت مزاجی جیسی بیماریوں سے کوسوں میل دوری کی وجہ سے صرف ہزاروں مجاہدین ہی نہیں، بلکہ پاکستان ،بنگلہ دیش ، ہندوستان اور کشمیر کے کروڑوں عام مسلمان بھی آپ سے عقیدت ومحبت رکھتے ہیں یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ہندوستان میں مولانا مسعود ازہر کے بے شمار چاہنے والے موجود ہیں،اس کے برعکس ’’نریندر مودی مردودی‘‘ بھارتی گجرات میں ہزاروں انسانوں کا قتل عام کروانے کی وجہ سے ’’قصائی‘‘کا لقب پا چکا ہے،کشمیر سے لے کر بہاولپور تک، مودی کے دامن پر ہزاروں معصوم بچوں اور عورتوں کے خون کے دھبے موجود ہیں۔’’نریندر مودی مردودی‘‘نے صرف ایک بابری مسجد ہی نہیں،بلکہ ہندوستان کی مزید درجنوں مساجد شہید کروانے کے بعد مظفرآباد کی بلال مسجد اور بہاولپور کی مسجد سبحان اللہ کو بھی شہید کر ڈالا، نریندر مودی کٹر ہندو فرقہ پرست ہے، اس کے دل و دماغ میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کی نفرت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے،پاکستان کی تباہی اس کا دیرینہ خواب ہے،ہندوستان میں بسنے والے مسلمانوں کو سیاسی ہو،مذہبی ہو، معاشی ہو یا معاشرتی، ہر طرح سے کچلنا اس کا مشغلہ ہے، غیر جانبدار تجزیہ نگاروں کے نزدیک مولانا محمد مسعود ازہر کو نریندر مودی پر اک ایسی شاندار اخلاقی برتری حاصل ہے کہ مودی جیسے ہزاروں، مولانا ازہر کے جوتوں کی خاک کے بھی برابر نہیں ،یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ بھارتی فوج نے آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں بلال مسجد کو نشانہ بنایا ،کوٹلی میں بھی مسجد کو نشانہ بنایا گیا ، بہاولپور میں بھی مسجد اور مدرسے کو نشانہ بنا یا،لیکن جواب میں پاک فوج نے ہندوستان کے کسی مندر کو نشانہ نہ بناکر بھارتی فوج پر اپنی اخلاقی برتری کی دھاک بٹھا دی ،ورنہ رام مندر کی اینٹ سے اینٹ بجانا پاکستانی فوج کے لئے کون سا مشکل تھا؟پاک فوج نے اپنے جوابی حملے بھارت کی عسکری تنصیبات اور بھارتی فوج تک ہی محدود رکھے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: مولانا محمد مسعود ازہر بھارتی فوج کو نشانہ پاک فوج ہی نہیں فوج کے

پڑھیں:

بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ایران میں جاری جنگ کے اثرات کے باعث معاشی بحران نے جنم لیا ہے اور موجودہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت صرف پیپلز پارٹی کے پاس ہے، گلگت بلتستان کے عوام 7 جون کو تیر پر مہر لگائیں۔

اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کی جانب سے امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو قابل فخر قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگ بندی کے لیے کی جانے والی کاوشیں کامیاب ہوں گی۔

مزید پڑھیں: کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، نواز شریف کا گلگت میں خطاب

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہاکہ ان کی جماعت ملک کے پسماندہ اور محروم طبقات کی حقیقی نمائندہ ہے۔ ایسی ترقی اور معاشی پالیسی کا کیا فائدہ جس میں امیر مزید امیر اور غریب مزید مشکلات کا شکار ہو جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ملک کا واحد ایسا ادارہ ہے جو براہ راست مستحق خاندانوں تک پہنچتا ہے اور اس پروگرام کے خلاف ہونے والی سیاسی سازشیں ناکام ہوں گی۔

بدقسمتی اس ملک کی ہے کہ ہمارے سیاست دان ایسے ہیں کہ جب معاشی حالات خراب ہوتے ہیں تو وہ یہ نہیں سوچتے کہ ہم اپنے امیر دوستوں کی سبسڈی کیسے ختم کریں، وہ یہ نہیں سوچتے کہ کاروباری طبقہ کتنا ٹیکس دے رہا ہے، وہ سیدھا اس پر پہنچتے ہیں کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرو، مگر ہم یہ… pic.twitter.com/ioZikOPLZU

— WE News (@WENewsPk) June 2, 2026

انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض حکمران عناصر اس پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی اسے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی اور آئندہ بجٹ میں اس کے فنڈز میں اضافے کے لیے وزیراعظم سے بات کی جائے گی۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی جبکہ میزائل ٹیکنالوجی کے فروغ میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا کردار نمایاں رہا۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں گلگت بلتستان کو شمالی علاقہ جات کہا جاتا تھا لیکن اس خطے کو موجودہ شناخت صدر آصف علی زرداری نے دی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بلتستان کی سرزمین سے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا اعلان کیا تھا۔

انہوں نے کہاکہ اگر 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو دیے گئے اختیارات گلگت بلتستان کو بھی منتقل کر دیے جائیں تو خطے کے متعدد مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ حق حاکمیت کے بعد عوام کو حق ملکیت بھی ملنا چاہیے اور اسلام آباد کو تسلیم کرنا ہوگا کہ گلگت بلتستان کے وسائل پر سب سے پہلا حق مقامی آبادی کا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا جاتا، نہ گلگت بلتستان اور نہ ہی پاکستان حقیقی ترقی کر سکتا ہے۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے سندھ حکومت کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو گھر فراہم کیے گئے اور یہی عوامی خدمت پیپلز پارٹی کی سیاست کا بنیادی محور ہے۔

ان کے مطابق پارٹی ہمیشہ عام آدمی، مزدور اور محروم طبقات کے حقوق کی سیاست کرتی آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کو بینظیر کارڈ کے ذریعے عملی شکل دی، جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو دنیا کے کئی ممالک نے قابل تقلید ماڈل قرار دیا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مسلم دنیا میں ایٹمی صلاحیت رکھنے والا واحد ملک پاکستان ہے اور اس صلاحیت کا سہرا شہید ذوالفقار علی بھٹو کے سر جاتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ آج بھی گڑھی خدا بخش سے پاکستان کے دفاع کی روایت جڑی ہوئی ہے۔ جنرل مشرف کے دور میں غیر ملکی ممالک کو پاکستان میں اڈے حاصل تھے، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ان اڈوں کو بند کروا دیا۔

انہوں نے سی پیک کے تحت تھرکول منصوبے کو سب سے کامیاب منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو فراہم کی گئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، جبکہ دیگر سیاسی قوتیں لوگوں کو بے روزگار کرنے کی پالیسی اپناتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت غریب نوجوانوں کو روزگار فراہم کرکے معاشی طور پر مضبوط بنانا چاہتی ہے۔

مزید پڑھیں: کسی بھی نئی آئینی ترمیم میں گلگت بلتستان کے عوامی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے، بلاول بھٹو

چیئرمین پیپلز پارٹی نے سندھ میں سیلاب کے بعد بحالی کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے پورا صوبہ پانی میں ڈوب گیا ہو، تاہم حکومت 20 لاکھ متاثرہ گھروں کی تعمیر کر رہی ہے اور اتنے ہی خاندانوں کو مالکانہ حقوق کے ساتھ رہائش فراہم کی جا رہی ہے۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ سڑکوں کی تعمیر سے پہلے متاثرین کو گھر دیے جائیں۔ اس منصوبے کے نتیجے میں قریباً 10 لاکھ افراد کو روزگار ملا۔

انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام سے اپیل کی کہ 7 جون کو تیر کے انتخابی نشان پر مہر لگائیں، پیپلز پارٹی یہاں بھی سندھ طرز کے عوامی فلاحی منصوبے متعارف کرائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بلاول بھٹو چیئرمین پیپلز پارٹی گلگت بلتستان الیکشن وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف