ہمیشہ جارحانہ کوشش بھارت کی ہوتی ہے، سید محمد علی
اشاعت کی تاریخ: 13th, May 2025 GMT
اسلام آباد:
نیشنل سیکیورٹی ایکسپرٹ (ر) ایئروائس مارشل اعجاز محمود کا کہنا ہے کہ پاکستان نے کیا کیسے کا بڑا خوبصورت جواب کل ایئروائس مارشل اورنگزیب نے دیا ہے لیکن آپ کے ناظرین کے لیے میں ری کیپ کرتا ہوں۔
ایکسپریس نیوز کے پروگرام کل تک میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جب سے ہم نیوکلیئر ہوئے ہم یہ کہتے آئے کہ اب جنگ کی گنجائش نہیں ہے، دونوں ملکوں میں لیکن بھارت کی جو اسٹریٹیجی تھی کہ وہ جوہری خطرے کے سائے میں جنگ کی جگہ بنانے کی کوشش کر رہے تھے تو پھر اس کے لیے ظاہر ہیں کہ ہم تیار ہیں، اصل میں انھوں نے ہماری ڈیٹرنس کو چیلنج کیا اب اس کا جواب دینے کے لیے جو ہمارے پاس سب سے اچھی آپشن تھی وہ ایئرپاور ایپلیکیشن تھی۔
نیشنل سیکیورٹی ایکسپرٹ (ر)میجر جنرل طارق رشید خان نے کہا کہ یہ لاتوں کے بھوت ہیں، لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے، وہ تو مانتے ہی نہیں تھے۔ پوری دنیا کہتی رہی کہ ثبوت دیدو، پاکستان بھی انویسٹی گیشن کیلیے تیار ہے لیکن وہ مانے ہی نہیں، اب اتنی مار پڑی ہے کہ اور آج دیکھیں بے شرم مودی اسپیچ کر رہا ہے جیسے وکٹری اسپیچ کر رہا ہے، عقل کے اندھے پوری دنیا تمھیں کہتی ہے کہ تم ریاستی دہشت گردی کے اسپانسرڈ ہو، کینڈا میں آپ اسٹیٹ سپانسرڈ ٹیررازم کر رہے ہیں،جب پاکستان نے اپنی صلاحیت کی تھوڑی سے جھلک دکھائی تو دنیا کو بھی سمجھ آگئی، مودی صاحب کو بھی سمجھ آگئی اور پیر پڑ گئے کہ صلح کرا دیں۔
سید محمد علی نیشنل سیکیورٹی ایکسپرٹ نے کہا کہ پچھلے 38سال میں یہ آٹھواںکرائسس ہے جو یک طرفہ طور پر بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم اورجارحانہ حکمت عملی کے نتیجے میں وقوع پذیر ہوا ہے، ہر دفعہ تین چیزیں ہی کامن ہیں، ہمیشہ جارحانہ کوشش بھارت کی ہوتی ہے، پھر جب ہم ان کی پھینٹی لگاتے ہیں تو امریکا آکر بیچ بچاؤ کرا دیتا ہے اور ہم کہتے ہیں کہ ٹھیک ہے، ہمیں خوش ہونا چاہیے، اس بار ہم نے جتنا زیادہ چھ ڈومیز میں فیصلہ کن اور جامع انداز میں شکست دی ہے شاید تاریخ میں اتنی بڑی پاور کو اتنے کم وقت میں اتنے کم وسائل سے شاید ہی تاریخ میں کیا گیا ہو۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔