پنجاب اسمبلی کا اجلاس آج دوپہر 2 بجے ہوگا، ایجنڈا جاری
اشاعت کی تاریخ: 14th, May 2025 GMT
راؤ دلشاد: پنجاب اسمبلی کے اجلاس کا ایجنڈا جاری ہے،پنجاب اسمبلی کا اجلاس دوپہر 2 بجے ہوگا۔
تفصیلات کے مطابق اجلاس کا آغاز تلاوت قرآن پاک، نعت و قومی ترانے سے ہوگا،محکمہ سپیشلائزڈہیلتھ سےمتعلق سوالات وجوابات اجلاس کاحصہ ہونگے۔اجلاس میں بلدیاتی اداروں بارےمختلف آڈٹ رپورٹس ایوان میں پیش کی جائیں گی۔ملتان،فیصل آبادٹاؤن میونسپل ایڈمنسٹریشنزکی آڈٹ رپورٹ2016-17ایوان میں پیش کی جائیگی۔
آئرش فٹبالر میگن کیمبل کا شاندار کارنامہ، دنیا کی طویل ترین تھرو کا عالمی ریکارڈ قائم
مظفرگڑھ ،بہاولنگر،بہاولپورٹاؤن میونسپل ایڈمنسٹریشنزکی رپورٹ ایوان میں پیش کی جائیگی۔لوکل گورنمنٹ جنوبی پنجاب کی آڈٹ رپورٹ 2022-23 (جلدٹو) ایوان میں پیش ہوگی۔اجلاس میں پاک بھارت جنگ پر عمومی بحث جاری رہے گی۔
اجلاس میں سرکاری کارروائی اور عوامی مفاد کے امور پر تفصیلی بحث متوقع ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: میں پیش
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔