سابق وزیر خارجہ و رہنما پیپلز پارٹی حنا ربانی کھر نے کہا کہ بھارت نے عقل سے عاری قدم اٹھایا جبکہ پاکستان نے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا لیکن ہمارے صبر کو کمزوری سمجھا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی پر قومی اسمبلی کے اجلاس میں ارکان قومی اسمبلی نے افواج پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو سرٹیفائیڈ دہشت گرد قرار دے دیا اور متنبہ کیا کہ وہ سیاسی فائدے کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں کیونکہ اُن کی سیاست لاشوں پر پروان چڑھ رہی ہے۔ سابق وزیر خارجہ و رہنما پیپلز پارٹی حنا ربانی کھر نے کہا کہ بھارت نے عقل سے عاری قدم اٹھایا جبکہ پاکستان نے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا لیکن ہمارے صبر کو کمزوری سمجھا گیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی صلاحیتوں کو ہمیشہ نظر انداز کیا گیا لیکن افواج پاکستان نے اپنی صلاحیتوں کو دنیا بھر میں ثابت کردیا۔ سابق وزیر خارجہ نے بھارت کو خبردار کیا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے نام پر سرحد پار حملوں کو جواز بنانا خطرناک نظیر بنے گا، اگر ایسی دلیل کو قبول کیا گیا تو پاکستان بھی بھارت میں کارروائیوں کا جواز دے سکتا ہے جہاں ہمیں بھارتی ریاستی دہشت گردی کے ثبوت حاصل ہیں۔

انہوں نے پہلگام واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت نے اس حملے کو جواز بنا کر پاکستان پر حملوں کا آغاز کیا، اگر پاکستان میں دہشت گردی کا واقعہ ہوجائے تو ہمیں کیا کرنا چاہیے؟، حنا ربانی کھر نے کہا کہ اگر ایسا ہے تو جعفر ایکسپریس حملے جیسے واقعات میں بھارت کے ملوث ہونے کے ثبوت ملنے پر جوابی کارروائی میں پاکستان بھی بھارت پر حملہ کرسکتا ہے۔ حنا ربانی کھر نے کہا کہ کیا آپ سب اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے پیرا میٹر کے پابند نہیں رہے؟

انہوں نے سوال کیا کہ کیا اب ہم آرٹیکل 25 کا حصہ نہیں رہے جو کہ تمام ملکوں کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کو برقرار رکھنے کا پابند کرتا ہے؟ نریندر مودی کے یکطرفہ اعلانات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سابق وزیر خارجہ نے پوچھا کہ کیا دنیا سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اس طرح کے دعووں کے بعد نریندر مودی کو خراج تحسین پیش کرے۔ اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ بھارتی بیانیہ دنیا کو نظر آنا شروع ہوگیا ہے اور اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی مسئلہ کشمیر کو متنازع تسلیم کرلیا ہے۔

حنا ربانی کھر نے آپریشن بنیان مرصوص کے دوران قومی اتحاد کی بھی تعریف کی، ساتھ ہی بھارت پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ہم صرف ہائی ٹیک کھلونے خریدتے ہی نہیں بلکہ انہیں استعمال کرنے کے لیے تربیت بھی دیتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت پچھلے 15 سالوں سے سفارتی طور پر خود کو پاکستان سے الگ کرنے کی کوششیں کر رہا ہے، بھارتی حکومت کی یہ حکمت عملی ناکام ہوگئی، اس نے دنیا کے سامنے پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کی جس میں وہ ناکام ہوگیا، بھارت مذاکرات سے دور نہیں بھاگنا چاہیے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: حنا ربانی کھر نے کہا کہ کہا کہ بھارت انہوں نے

پڑھیں:

ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ

امریکا آج سے پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات(tarrif) نافذ کر رہا ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔

نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا، یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت آج ختم ہو رہی ہے۔

امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے، ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔

مزیدپڑھیں:میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا

امریکا کے حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔

آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔

کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔

کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔

تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔

ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایشین گیمز: پاکستان، بھارت، بنگلادیش، سری لنکا براہِ راست ناک آؤٹ مرحلے میں
  • کوہاٹ ٹول پلازہ کے قریب دہشت گردوں کا کسٹمز حکام پر حملہ، 2 اہلکار شہید، ایک زخمی
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا