نئی دہلی(نیوز ڈیسک)بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ’آپریشن سندور‘ کے دوران صرف بھارت مغربی کی سرحد ہی نہیں بلکہ سائبر اسپیس میں بھی شدید حملے کیے گئے۔ ٹائمز آف انڈیا نے سائبر سیکیورٹی ماہرین کے حوالے سے کہا ہے کہ پاکستان، ترکی، بنگلہ دیش، ملیشیا، انڈونیشیا اور چین کے حمایت یافتہ ہیکرز اور ہیکٹیوسٹ گروپس نے بھارتی ڈیجیٹل نظام کو نشانہ بنایا۔

یاد رہے کہ10 مئی کو جنگ کے دوران پاکستانی ذرائع ابلاغ نے خبر دی تھی کہ بھارت میں بڑے پیمانے پر سائبر حملے کیے گئے ہیں۔ بھارت نے منگل کے روز اس حملے کا اعتراف کیا تھا۔ اب یہ بات سامنے آ رہی ہے کہ حملے میں کئی دیگر ملک پاکستان کے ساتھ تھے۔

بھارتی اخبار کے مطابق ان حملوں کا ہدف دفاعی ادارے، ان کے ایم ایس ایم ای وینڈرز، اور اہم بنیادی ڈھانچے جیسے بندرگاہیں، ہوائی اڈے، بجلی کے گرڈز، ریلوے اور ایئرلائنز جیسی ٹرانسپورٹ سروسز، بی ایس این ایل جیسے ٹیلیکوم ادارے، یو پی آئی، ڈیجیٹل والٹس، اسٹاک ایکسچینجز اور وہ بڑے بھارتی گروپس تھے جن کی سرمایہ کاری انفرااسٹرکچر میں ہے۔

حملے کا مقصد بھارت کو عالمی سطح پر شرمندہ کرنا اور دفاعی نظام، خاص طور پر میزائل پروگرام سے متعلق حساس معلومات چُرانا تھا۔ انٹرپول ٹرینر اور سائبر فارنزک ماہر پینڈیالا کرشنا شاستری کے مطابق یہ حملے پاکستانی سائبر گروپس کی قیادت میں چلائی جانے والی منظم مہم کا حصہ تھے۔

ان گروپس نے مالویئر، فشنگ اٹیکس اور ڈینائل آف سروس حملوں کے ذریعے مالیاتی، توانائی، ٹیلیکوم، اور پبلک سروس سیکٹرز کو نشانہ بنایا۔

ویب سائٹ Zone-H، جو ویب سائٹس کی ہیکنگ کی نگرانی کرتی ہے نے بھارتی سرکاری ڈومینز کی ڈیفیسمنٹ کے کئی واقعات رپورٹ کیے۔ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف واٹر اسپورٹس (niws.

nic.in) کی ویب سائٹ ہیک کی گئی جبکہ nationaltrust.nic.in پر بھی حملہ ہوا جسے بعد میں بحال کر دیا گیا۔

منگل کے روز سنٹرل کول فیلڈز لمیٹڈ (CCL) کی ویب سائٹ پر بھی ایک بڑا تکنیکی خلل پیدا ہوا جہاں ”Mr. Habib 404“ نامی ایک ہیکر کی جانب سے پیغام دیا گیا: ”آپ نے سوچا آپ محفوظ ہیں، لیکن ہم یہاں موجود ہیں۔“

اس پر سی سی ایل کے پی آر او، آلوک گپتا نے بیان دیا: ”ویب سائٹ کو بحال کر دیا گیا ہے اور یہ اب معمول کے مطابق کام کر رہی ہے۔ کمپنی کا کوئی ڈیٹا ضائع یا تبدیل نہیں ہوا۔ فی الحال ہم صرف یہی کہہ سکتے ہیں کہ یہ ایک تکنیکی خرابی تھی۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہیکنگ ہوئی ہے یا نہیں۔“
مزیدپڑھیں:عمران خان بارے جیل سے بڑی خبرآگئی

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: ویب سائٹ

پڑھیں:

بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا

بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔

میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔

مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔

یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔

        View this post on Instagram                      

تاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔

حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا