شکست خوردہ بھارت کے مصنف جاوید اختر فوج سے متعلق سوالات پر صحافیوں پر بھڑک اُٹھے
اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT
بالی ووڈ کے مشہور نغمہ نگار اور اسکرپٹ رائٹر جاوید اختر ایک حالیہ ویڈیو میں صحافیوں کے سوالات پر غصے کا اظہار کرتے نظر آئے اور سوالات کے جواب دینے سے بچنے کی کوشش کی۔
یہ ویڈیو اس وقت کی ہے جب بھارت کو پاکستان کے ساتھ حالیہ جنگی کشیدگی میں بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد صحافیوں نے جاوید اختر سے اس معاملے پر ان کا مؤقف جاننے کی کوشش کی۔
سوشل میڈیا پر وائرل اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جاوید اختر کو ایک نجی تقریب سے واپسی کے دوران صحافی گھیر کر جنگ اور بھارتی فوج کے جوانوں سے متعلق سوالات کرتے ہوئے ان کی رائے لینے کی کوشش کرتے ہیں تاہم جاوید اختر سیخ پا ہوجائے ہیں۔
ابتدائی طور پر وہ سوالات کے جواب دینے سے معذرت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ایسی بات چیت کے لیے یہ موقع اور جگہ مناسب نہیں ہے۔ تاہم، صحافیوں کے بار بار اصرار پر وہ غصے میں آ کر ایک رپورٹر پر برس پڑتے ہیں اور سخت لہجے میں کہتے ہیں، ’کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں آپ سے بدتمیزی کروں؟‘
انہوں نے ایک خاتون صحافی سے کہا کہ اگر وہ انٹرویو کرنا چاہتی ہیں تو وقت لے کر ان کے گھر آئیں، جیسا کہ وہ پہلے بھی کئی بار کر چکے ہیں۔ یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس پر صارفین کا کہنا ہے کہ جاوید اختر کے پاس پاکستان سے تاریخ کی اس بدترین شکست کے بعد اب کہنے کو کچھ نہیں ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: جاوید اختر
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔