Express News:
2026-06-02@23:06:19 GMT

گرمیوں کا راحت بخش شربت

اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT

جب گرمیوں کی دھوپ ناقابل برداشت ہو جائے، تو ایک ٹھنڈا گلاس املی آلو بخارا شربت ہی پیاس بجھانے اور روح کو تازگی پہنچانے کے لیے کافی ہے۔ املی آلو بخارا شربت کے کئی فوائد ہیں جو اسے موسم گرما کا بہترین مشروب بناتے ہیں۔

املی اور آلو بخارا کا ٹھنڈا احساس گرمی کو شکست دینے اور آپ کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے بہترین ہے۔ گرمیوں میں پسینہ آتا ہے اور پانی کی کمی ہوتی ہے۔ یہ مشروب پانی کی کمی کو دور کرتا ہے۔ املی اور آلو بخارا دونوں میں فائبر ہوتے ہیں جو ہاضمے میں مدد فراہم کرتے اور گرم موسم میں قبض کو دور کرتے ہیں۔ املی وٹامن سی، پوٹاشیم اور میگنیشیم فراہم کرتی ہے، جب کہ آلو بخارا وٹامن اور فائبر سے بھرپور ہوتا ہے۔ یہ ضروری غذائی اجزا اس وقت مددگار ثابت ہو سکتے ہیں جب پسینہ آنے سے الیکٹرولائٹس ختم ہو جاتا ہے۔ املی اور آلو بخارا میں اینٹی آکسیڈنٹ ہوتے ہیں جو بیماریوں کے خلاف کچھ تحفظ فراہم کرتے ہیں۔

املی کولیسٹرول کم کر کے دل کی کارکردگی بہتر بناتی ہے۔ وٹامنز اور منرلز سے بھرپور، املی جسم کو بیماریوں سے بچاتی ہے۔اس کے علاوہ چکنائی کو تحلیل کر کے وزن گھٹانے میں مدد دیتی ہے۔ املی اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور، جگر کو صاف کرتی ہے اور اس کی کارکردگی کو بہتر بناتی ہے۔ آلو بخارا جلد کی خوبصورتی کو بڑھاتا ہے۔ اینٹی آکسیڈنٹس جلد کو غذائیت دیتے ہیں اور انفیکشن سے بچاتے ہیں۔ یہ شربت وٹامن اے سے بھرپور، آنکھوں کی صحت کے لیے مفید ہے، ہڈیوں کو مضبوط کرتا ہے۔ اس میں موجود پوٹاشیم اور میگنیشیم جیسے منرلز ہڈیوں کو مضبوط بناتے ہیں۔

اجزاء: املی آدھا کپ، آلو بخارا (خشک) ایک کپ، چینی آدھا کپ، کالا نمک آدھا چائے کا چمچ، برف حسبِ ضرورت، تخم ملنگا اور پانی حسبِ ضرورت۔

ترکیب: املی اور آلو بخارے کو الگ الگ ایک کپ پانی میں رات بھر کے لیے بھگو دیں۔ پھر صبح بیج نکال کر بلینڈ کرلیں۔ اب اس آمیزے کو دو کپ پانی میں چینی کے ساتھ پانچ منٹ کے لیے پکائیں۔ اس کے بعد بلینڈر میں برف، آمیزہ اور نمک ڈال کر بلینڈ کریں اور ٹھنڈا ہونے کے لیے فریج میں رکھ دیں۔ تخم ملنگا ڈال کر پیش کریں۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: املی اور ا لو ا لو بخارا سے بھرپور کے لیے املی ا

پڑھیں:

اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید

راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
 
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا