لاہور (خصوصی نامہ نگار) پنجاب اسمبلی کا اجلاس ڈیڑھ گھنٹہ تاخیر سے ڈپٹی سپیکر ملک ظہیر اقبال چنڑ کی صدارت میں شروع ہوتے ہی سیکرٹری سپیشلائز ہیلتھ کی عدم موجودگی پر پندرہ منٹ کے لئے موخر کردیا گیا۔ اجلاس میں محکمہ سپیلائز ہیلتھ کے بارے میں سوالوں کے جوابات دیے جانے تھے کہ سیکرٹری ہیلتھ کی عدم موجود کا انکشاف ہوا، جس پر سپیکر نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سیکرٹری ہیلتھ کو فوری حاضر ہونے کی ہدایت کی اور ان کی آمد تک اجلاس15منٹ کے لئے موخر کردیا۔ اجلاس وقفے کے بعد دوبارہ ڈپٹی سپیکر ملک ظہیر اقبال چنڑ کی صدارت میں شروع ہوا۔ ساہیوال کے ٹیچنگ ہسپتال میں پچاس فیصد سے زائد آسامیاں خالی ہونے کا انکشاف ہوا، جس پر حکومتی رکن ملک ارشد نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان حالات میں صحت کا نظام کیسے چل سکتا ہے دو سال سے یہ آسامیاں خالی ہیں۔ ساہیوال کو بھی لاہور ملتان فیصل آباد کی طرح وہاں کی عوام کو علاج معالجے کی سہولیات دی جائیں، تین ڈاکٹر پورے ہسپتال کے کارڈیک سسٹم کو کیسے چلا سکتے ہیں؟ بلال یامین کا کہنا تھا کہ ماضی میں آسامیاں پر کرنے کا کام ڈی سینٹرلائزڈ تھا جس سے ڈسٹرکٹ کی سطح پر آسامیاں پر کی جاتی تھی،اب پنجاب میں کہیں بھی بھرتی کرنی ہوتی ہے تو لاہور سے آسامیاں بھرتی کی جاتی ہیں، اگر دوبارہ ڈی سینٹرلائیزڈ کردیا جائے تو آسانی ہوجائے گی۔ جس پر پارلیمانی سیکرٹری رشدہ لودھی نے جلد یہ آسامیاں پر کرنے کی یقین دہانی کرا تے ہوئے کہا کہ ہیلتھ کا شعبہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے دل کے قریب ہے۔ اس دوران اپوزیشن نعرے لگاتی ہوئی ایوان میں داخل ہوئی، ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ محکمہ نے بتایا اگلے تین سال میں ہر ڈویژن میں برن اور چلڈرن ہیلتھ کمپلیکس بنائے جائیں گے۔وزیر قانون نے ٹاؤن میونسپل کمیٹی ضلع ملتاں فیصل آباد، مظفرگڑھ،بہاولپور اور بہاولنگر کی آڈٹ رپورٹس ایوان میں پیش کر دی۔ ڈپٹی سپیکر نے رپورٹس کو متعلقہ کمیٹی کو ریفر کر دیں۔ آپریشن ’’بنیان مرصوص‘‘ کی کامیابی پر گذشتہ روز بھی ارکان اسمبلی نے تقاریر کیں اور پاک فوج کو خراج تحسین اور شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا،بحث میں حصہ لیتے ہوئے بریگیڈئیر (ر) مشتاق نے کہا کہ چار دن کی جنگ میں پاکستان اور چائنہ۔ترکی آذربائیجان کا الائنس ابھر کر سامنے آیا ہے،آج مقتدرہ سے کہنا چاہتا ہوں پلیز چائنا کو اب دھوکا نہیں دینا،چائنا ہمارے مشکل وقت میںہمیشہ کام آتا ہے اور ہم سب سے پہلے چائنا کو چھوڑ کر دوسرے الائنس میں چلے جاتے ہیں،اس جنگ میں سیاسی اتحاد بھی نظر آیا، اسے قائم رہنا چاہیے جب تک ملک میں سیاسی استحکام نہ ہو معیشت ٹھیک نہیں ہوسکتی، میری گزارش ہے آپس میں سیاسی جماعتیں غصہ ختم کریں اور ملک کی ترقی کیلئے کام کریں۔ اپوزیشن رکن نادیہ کھر نے ایوان میں اظہار خیال میں افواج پاکستان کو دشمن کا سر کچلنے پر خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ ہمارے ذاتی اختلاف اپنی جگہ مگر وطن کے لئے ہم سب اکٹھے ہیں۔ آئی پی پی کے رکن اسمبلی شعیب صدیقی نے کہا کہ میں آرمی چیف ایئر چیف اور بحری سربراہ کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، فوج اور سفارتی سطح پر ہماری کامیابی ہے، عدنان چٹھہ نے کہا کہ اگلے کئی عشروں میں پاک فوج کے ائیر فورس کے جوانوں کی شجاعت کو سلیبس میں پڑھایا جائے گا، پوری دنیا نے دیکھا بھارت چند گھنٹوں میں سیز فائر کی منتیں کرتا پایا گیا۔ بھارت ترقی چاہتا ہے یا تباہی۔ یہ بھارت نے خود سوچنا ہے۔ جو راستہ بھارت چنے گا پاکستان اسی طرح جواب دے گا۔ حکومتی رکن تیمور لالی نے کہا کہ آج ہم سکون کی نیند سوتے ہیں تو صرف پاک آرمی کی وجہ سے۔ ہم امن چاہتے ہیں جبکہ مودی امن نہیں چاہتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: ڈپٹی سپیکر نے کہا کہ ا سامیاں کو خراج

پڑھیں:

چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس

چیف جسٹس آف پاکستان نے ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔

چیف جسٹس آف پاکستان نے پاکستان کی عدلیہ کی جانب سے شہدا کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔

ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار مستونگ میں دورانِ ڈیوٹی دہشت گرد حملے میں شہید ہوئے تھے۔

چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے کہا کہ پاکستان کی عدلیہ اس ناقابلِ تلافی سانحے پر سوگوار خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے شہداء کے درجات کی بلندی اور اہلِ خانہ کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔

مزید پڑھیں

مستونگ: قومی شاہراہ پر فائرنگ، سیشن جج گن مین سمیت شہید، ایڈیشنل سیشن جج سمیت 2 افراد شدید زخمی

چیف جسٹس آف پاکستان نے زخمی ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری اور جوڈیشل مجسٹریٹ کی جلد صحت یابی کی دعا کی جبکہ شہداء سے اظہارِ عقیدت اور بلوچستان کی ضلعی عدلیہ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے 25 جولائی کو شیڈول جوڈیشل ویلبیئنگ کانفرنس مؤخر کر دی گئی۔

چیف جسٹس نے کہا پاکستان کی عدلیہ بلاخوف و خطر انصاف کی فراہمی کے عزم پر قائم ہے، تشدد اور دہشت گردی کے واقعات قانون کی حکمرانی کے لیے ہمارے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی عدلیہ ہر حال میں انصاف کی بالادستی اور عدلیہ کی آزادی کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔

متعلقہ مضامین

  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • اسپاٹیفائی کا عاطف اسلم کو خراج تحسین، گلوکار کی عالمی مقبولیت کا معترف
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن