ہاکی ایشیاکپ؛ بھارت نے پاکستان کو ایونٹ سے باہر کرنے کا منصوبہ بنالیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT
مینز ہاکی ایشیاکپ 2025 سے پاکستان کو باہر کرنے کیلئے بھارت نے تیاریاں مکمل کرلیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق مینز ہاکی ایشیاکپ رواں برس اگست اور ستمبر میں بھارت کے شہر راجگیر میں شیڈول ہے، یہ ٹورنامنٹ 2026 ہاکی ورلڈکپ کی کوالیفکیشن کا اہم ذریعہ ہے۔
پہلگام واقعہ کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان بڑھتی سفارتی کشیدگی کے بعد بھارت نے پاکستانی ٹیم کو دوٹوک انداز میں ویزا دینے سے انکار کردیا تھا تاہم اب ٹورنامنٹ سے گرین شرٹس کو باہر کیے جانے کا امکان ہے۔
مزید پڑھیں: بھارت کی نئی چال! پاکستان کا ورلڈکپ کھیلنے کا خواب مشکل میں
ایشین ہاکی فیڈریشن (اے ایچ ایف) نے ابھی تک اس صورتحال پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے تاہم بھارتی حکام ویزا اور پاکستانی ٹیم کو ٹورنامنٹ کا حصہ نہیں دیکھنا چاہتے۔
دوسری جانب پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف) کی جانب سے صورتحال پر تاحال کوئی موقف سامنے نہیں آیا ہے۔
مزید پڑھیں: ایشیا اور جونیئر ہاکی ورلڈ کپ؛ پاکستان ٹیم کی بھارت روانگی حکومتی اجازت سے مشروط
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ بھارتی حکومت کی جانب سے باضابطہ طور پر ٹورنامنٹ میں پاکستانی ٹیم کی شرکت کے حوالے سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔
تین بار ایشیا کپ ٹائٹل جیتنے والی پاکستانی ٹیم کا ریکارڈ نہایتی شاندار رہا ہے، مینز ہاکی ٹیم نے 12 ایونٹس میں سے 11 میں شرکت کی ہے جو کسی بھی ٹیم سے زیادہ ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاکستانی ٹیم
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :