پاک بھارت جنگ میں نقصانات محدود تھے، امریکی میڈیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT
جنگ میں بھارت اور پاکستان کی جانب سے ایک دوسرے کو پہنچائے گئے نقصانات کے بیانات کے برعکس امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ دونوں ملکوں نے باتیں تو بڑی بڑی کی ہیں مگر سیٹیلائٹ تصاویر ظاہر کرتی ہیں کہ جنگ میں نقصانات محدود تھے۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق بھارت اور پاکستان کے درمیان چار روزہ جنگ دونوں ایٹمی ممالک کے درمیان نصف صدی میں وسیع ترین لڑائی تھی۔
اس جنگ میں دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے فضائی دفاعی نظام کی صلاحیت جانچنے کے لیے ڈرونز اور میزائل حملے کیے۔ ان میں کئی فوجی تنصیبات نشانہ بنائی گئیں اور دونوں ممالک کا دعویٰ تھا کہ حریف کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے۔
تاہم سیٹیلائٹ تصاویر اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ حملے تو بہت وسیع تر حصوں پر کیے گئے مگر دعوؤں کے برعکس نقصان کہیں زیادہ محدود تھا۔
اخبار کے مطابق جدید ٹیکنالوجی کے دور میں ہوئی اس جنگ میں دونوں ہی ملکوں نے کم و کاست اہداف ہی کو نشانہ بنایا۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق یہ واضح ہے کہ دونوں ممالک کی افواج کو جانی نقصان ہوا۔ بھارت نے تسلیم کیا کہ اس کے پانچ فوجی مارے گئے ہیں جبکہ پاکستان میں تیرہ فوجی اہلکار شہید ہوئے۔
جنگ میں پاکستان نے دو رافیل سمیت 5 طیاروں کونشانہ بنایا تھا۔ اخبار کے مطابق بھارت کو سب سے زیادہ نقصان لڑاکا طیارے کی تباہی سے ہوا۔
تاہم بھارتی حکومت نے تاحال یہ نہیں بتایا کہ پاکستان نے اس کے کتنے طیاروں کو تباہ کیا۔ اہلکاروں اور سفارتکاروں کے نزدیک بھارت کے کم سے کم دو طیاروں کو نقصان ہوا اور یہ عین ممکن ہے کہ تعداد اس سے زیادہ ہو۔
حملوں سے پہلے اور بعد کی سیٹیلائٹ تصاویر کا موازنہ کرتے ہوئے امریکی اخبار نے لکھا کہ پاکستان میں تنصیبات کو بھی نقصان واضح ہے۔
بھارت کا دعویٰ ہے کہ اس نے بھولاری ایئربیس کے ہینگر پر حملہ کیا تھا اور اخبار کے مطابق سیٹلائٹ تصاویر سے بھی لگتا ہے کہ نقصان بظاہر ہینگر ہی کو پہنچا۔
اخبار کے مطابق بھارت کی جانب سے پاکستان میں ہدف بنائی گئی سب سے زیادہ حساس تنصیب نور خان ائربیس ہے۔ اخبار کے مطابق بھارتی فوج کا دعویٰ ہے کہ اس نے اہم ایئر بیس کے رن وے اور دیگر تنصیبات پر حملے کیے تھے۔سیٹیلائٹ تصاویر سے یہ بھی واضح ہے۔
اخبار کے مطابق دس مئی کو پاکستان کی جانب سے نوٹس بھی اشو کیا گیا تھا کہ رحیم یار خان ایئر بیس کا رن وے آپریشنل نہیں۔ سرگودھا ایئربیس کے بارے میں بھی بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ رن وے کے دو حصوں کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی اخبار کے مطابق پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے بھارت کی دو درجن فوجی تنصیبات اور ایئربیس ہدف بنائے ہیں۔تاہم بھارتی حکام نے تسلیم کیا ہے کہ اس کے چار ایئربیس کو محدود نقصان پہنچا ہے مگر اس نے تفصیل نہیں دی۔
اخبار کے مطابق جن اہداف کو پاکستانی فوج نے نشانہ بنایا ہے اسکی سیٹیلائٹ تصاویر انتہائی محدود ہیں اور فی الحال وہ یہ واضح طور پر ظاہر نہیں کرتیں کہ حملوں سے ایئربیسز پر بھی نقصان پہنچا ہو۔
اخبار نے وجہ نہیں بتائی کہ آخر بھارت میں فوجی اڈوں پر حملوں سے پہنچے نقصان کی سیٹیلائٹ تصاویر واضح کیوں نہیں تاہم اتنا ضرور تسلیم کیا کہ یہ وہی فوجی اڈے ہیں جہاں پاکستان کی فوجی کارروائی سے متعلق ٹھوس شواہد موجود ہیں۔
اخبار نے پاکستان کے سرکاری میڈیا کے حوالے سے کہا کہ افواج پاکستان نے اُودھم پور ایئربیس کو تباہ کردیا تھا۔ اس ضمن میں ایک بھارتی خاندان نے تصدیق کی ہے کہ انکے گھر کا فرد فوجی اُسی ایئربیس پر ہلاک ہوا مگر بارہ مئی کو سیٹلائٹ سے لی گئی تصویر میں اس ایئربیس کو نقصان بھی واضح نہیں۔
اخبار نے یہ واضح نہیں کیا کہ پاکستان سے پہ درپہ بھارت پر داغے گئے میزائلوں نے اہداف کو نقصان نہیں پہنچایا تو آخر انہِیں آسمان کھا گیا یہ زمین نگل گئی۔
اخبار نے یہ بھی نہیں بتایا کہ بھارت کی جانب سے حملوں میں پاکستان میں مساجد اور گھروں کو نقصان پہنچا اور عام شہریوں کی بھی اموات ہوئی ہیں۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے مطابق بھارت اخبار کے مطابق نقصان پہنچا نشانہ بنایا پاکستان میں کہ پاکستان کی جانب سے کو نقصان ہے کہ اس فوجی ا
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔